
امریکی صدر ٹرمپ / آئی اے این ایس
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنیوا میں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مجوزہ مذاکرات سے قبل خود کو بالواسطہ مگر باخبر شریک قرار دیتے ہوئے محتاط امید کا اظہار کیا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا کہ اگر بات چیت ناکام رہی تو اس کے نتائج ہوں گے۔
فلوریڈا سے واپسی پر ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے ایران کو ’انتہائی سخت مذاکرات کار‘ قرار دیا، مگر امید ظاہر کی کہ ایرانی نمائندے مذاکرات کی میز پر زیادہ معقول رویہ اپنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایران معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور متبادل راستہ دونوں فریقوں کے لیے زیادہ سنگین ہو سکتا ہے۔
Published: undefined
یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکی اور ایرانی حکام تہران کے جوہری پروگرام اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کے اثرات پر نئی بات چیت کی تیاری کر رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ نے حالیہ امریکی فوجی کارروائی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار کے حصول کے قریب تھا۔ ان کے بقول اگر ایسا ہو جاتا تو صورتحال بالکل مختلف ہوتی۔
داخلی امور پر بات کرتے ہوئے صدر نے معیشت میں بہتری کا دعویٰ کیا۔ انہوں نے کہا کہ افراطِ زر میں نمایاں کمی آئی ہے اور ایندھن کی قیمتیں نیچے آئی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کی پیداوار میں اضافے کی پالیسی نے پٹرول سستا کیا جس سے مجموعی اخراجات میں کمی آئی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ملک کو ایک مشکل صورتحال ورثے میں ملی تھی، مگر اب وہ مضبوط انداز میں بحالی کی جانب گامزن ہے۔
Published: undefined
صدر ٹرمپ نے جرائم کی شرح میں تاریخی کمی کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ قتل کی وارداتیں 1900 کے بعد کم ترین سطح پر ہیں۔ انہوں نے اس کا سہرا سخت سرحدی نگرانی کو دیا اور کہا کہ ہزاروں غیر قانونی تارکین وطن، جن میں ایسے افراد بھی شامل تھے جنہیں انہوں نے مجرمان قرار دیا، ملک سے نکالے گئے۔
کانگریس کے حوالے سے صدر نے کہا کہ وہ محکمہ برائے داخلی سلامتی کی فنڈنگ پر ڈیموکریٹس سے ملاقات کریں گے، تاہم انہوں نے حکومت کی ممکنہ بندش کا الزام بھی انہی پر عائد کیا۔ انہوں نے ووٹر شناخت اور شہریت کے ثبوت سے متعلق سخت تقاضوں کی مخالفت پر ڈیموکریٹس کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
Published: undefined
جیفری ایپسٹین کے معاملے پر سوال کے جواب میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں اور وہ خود کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ کیوبا کے بارے میں انہوں نے اسے ناکام ریاست قرار دیا اور کہا کہ وہاں انسانی مسائل پر بات چیت جاری ہے، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو کی سفارتی کوششیں شامل ہیں۔
ایران کے ساتھ سفارت کاری ناکام ہونے کی صورت میں ممکنہ اقدامات کے بارے میں انہوں نے تفصیلات بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی کارروائی زیادہ مشکل نہیں ہوگی۔ انہوں نے چین کے صدر شی جن پنگ سے حالیہ گفتگو کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ تائیوان کے لیے اضافی ہتھیاروں سے متعلق فیصلہ جلد کیا جائے گا۔
جنیوا مذاکرات ایسے وقت ہو رہے ہیں جب امریکہ اور ایران کے تعلقات طویل عرصے سے کشیدگی، پابندیوں اور عسکری تناؤ کے سائے میں رہے ہیں، اور عالمی منظرنامے پر توانائی سلامتی اور جوہری عدم پھیلاؤ جیسے معاملات بدستور اہمیت رکھتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined