
مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس
مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازعات اور کشیدگی کے درمیان ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کا ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس سے ایران کی جیلوں میں قید سینکڑوں افراد کو بڑی راحت ملنے کی امید ہے۔ ایران کے سرکاری نیوز چینل ’پریس ٹی وی‘ کے مطابق سپریم لیڈر نے جمعہ کے روز 2000 سے زائد قیدیوں کی سزاؤں کو معاف یا کم کر نے کی سفارش کو منظوری دے دی ہے۔
Published: undefined
ایران کی سرکاری نیوز ایجنسی ’ارنا‘ کے مطابق آیت اللہ مجتبیٰ حسینی خامنہ ای نے 2 ہزار قیدیوں کی سزا معاف کرنے یا کم کئے جانے کی عدلیہ کی درخواست کو منظوری دے دی۔ اس رپورٹ کے مطابق ایرانی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای کے نام خط میں 2 ہزار قیدیوں کی سزا معاف اور ان کی قید کی مدت کم کر کے انہیں رہا کرنے کی درخواست کی تھی جس کی سپریم لیڈر نے موافقت کر دی ہے۔
Published: undefined
ایرانی سپریم لیڈر کے اس فیصلے کے بعد ایران کی جیلوں میں قید بڑی تعداد میں قیدیوں کو راحت ملنے اور متعدد کی رہائی کی راہ ہموار ہونے کا امکان ہے۔ حالانکہ قومی سلامتی سے متعلق جرائم کے مرتکب قیدی، جاسوسی کے جرم میں سزا کاٹ رہے افراد، ایران کی داخلی یا خارجی سلامتی کے خلاف کام کرنے والے اور عوامی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے جرائم کے مرتکب لوگوں کو اس معافی میں شامل نہیں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
ایران کے سپریم لیڈر کی سرکاری ویب سائٹ پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران کی جیلوں میں بند 2 ہزار سے زیادہ قیدیوں کو یہ معافی شیعوں کے عظیم تہوار عید غدیر خم کے موقع پر دی گئی ہے۔ ایران کی عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی نے سپریم لیڈر سے اس رحم کی درخواست کی سفارش کی تھی۔
Published: undefined
غور طلب ہے کہ ایران میں بڑھتے ہوئے مبینہ اقتصادی بحران اور امریکہ کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کی وجہ سے پیدا ہوئے حالات کے درمیان دسمبر 2025 میں ملک گیر مظاہروں کے بعد ہزاروں کی تعداد میں شہریوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ اب ان قیدیوں میں سے بڑی تعداد کو راحت ملنے کی امید ہے۔ واضح رہے کہ عید غدیر کی مناسبت سے ایران میں تقریباً ہر سال محدود تعداد میں قیدیوں کو رہا کیا جاتا رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined