ٹوتھ پیسٹ میں ’مائیکروپلاسٹک‘ کی رپورٹ سے بنگلہ دیش میں تشویش، لاکھوں افراد کی صحت کو خطرہ لاحق!
انوائرمنٹ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ای ایس ڈی او) کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں ٹوتھ پیسٹ میں ’مائیکرو پلاسٹک‘ پائے گئے ہیں، جس سے لاکھوں لوگوں کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔

ٹوتھ پیسٹ کی کوالیٹی کو لے کر تمام برانڈز بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں۔ ہم میں سے کئی لوگ اکثر ان دعووں پر بھروسہ کرتے ہیں اور ان ٹوتھ پیسٹ کو خریدتے ہیں۔ اس دوران بنگلہ دیش میں فروخت ہونے والے ٹوتھ پیسٹ کی کوالیٹی کو لے کر ایک رپورٹ سامنے آئی ہے، جس نے شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ انوائرمنٹ اینڈ سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (ای ایس ڈی او) کی جانب سے کی گئی ایک تحقیق میں ٹوتھ پیسٹ میں ’مائیکرو پلاسٹک‘ پائے گئے ہیں، جس سے لاکھوں لوگوں کی صحت پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ای ایس ڈی او کی رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش میں فروخت ہونے والے 34 ٹوتھ پیسٹ کے نمونوں میں سے 26 میں مائیکرو پلاسٹک یعنی پلاسٹک کے انتہائی باریک ذرات پائے گئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کل نمونوں کا 76.5 فیصد ہے، جس سے لوگوں کی صحت اور ماحول کے لیے ممکنہ خطرات کے حوالے سے تشویش بڑھ گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق 34 ٹوتھ پیسٹ کے نمونوں میں سے 26 میں مائیکرو پلاسٹک پائے گئے۔ یہ تعداد کل نمونوں کا 76.5 فیصد ہے۔ ای ایس ڈی او نے یہ تحقیق جولائی 2025 سے جون 2026 کے درمیان کی تھی۔ اس میں بنگلہ دیش، ہندوستان، تھائی لینڈ اور ویتنام میں تیار کیے جانے والے 19 بڑے برانڈز کے 34 نمونے شامل تھے۔ یہ نمونے ریٹیل دکانوں، سپر مارکیٹس اور ہول سیل بازاروں سے جمع کیے گئے تھے اور ان کی جانچ جہانگیر نگر یونیورسٹی کی ’لیبارٹری آف انوائرنمنٹل ہیلتھ اینڈ ایکوٹوکسیکولوجی‘ میں کی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹوتھ پیسٹ میں مائیکرو پلاسٹک کی مقدار 20 سے 320 ذرات فی 100 گرام تک پائی گئی۔ ای ایس ڈی او کے محققین کا کہنا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں مائیکرو پلاسٹک بالکل نہیں ہونا چاہیے۔ جبکہ مقامی اور غیر ملکی برانڈز سمیت بچوں کے ٹوتھ پیسٹ بھی اس کی زد میں آئے ہیں۔ مقامی طور پر تیار کردہ 25 مصنوعات میں سے 22 میں مائیکرو پلاسٹک پایا گیا۔
بنگلہ دیش کے علاوہ دیگر ممالک کی بات کریں تو ہندوستان کے 5 میں سے ایک، تھائی لینڈ کے 2 میں سے ایک اور ویتنام کے دونوں نمونوں میں بھی مائیکرو پلاسٹک ہونے کی بات سامنے آئی ہے۔ یہی نہیں بلکہ تحقیق میں شامل بچوں کے 6 ٹوتھ پیسٹ میں سے 4 میں بھی مائیکرو پلاسٹک ملا ہے۔ بچوں کے لیے بنائے گئے کوڈومو الٹرا شیلڈ فارمولا اسٹرابیری، میرل بیبی اسٹرابیری، میرل بیبی اورنج اور پیپسوڈنٹ کڈز اورنج میں مائیکرو پلاسٹک پایا گیا ہے۔
ای ایس ڈی او کے محققین کا کہنا ہے کہ ٹوتھ پیسٹ میں کسی بھی قسم کا مائیکرو پلاسٹک نہیں ہونا چاہیے۔ رپورٹ میں محققین نے بتایا کہ ان ٹوتھ پیسٹ میں فی 100 گرام کے اندر 20 سے لے کر 320 تک مائیکرو پلاسٹک کے ذرات موجود تھے۔ جانچ میں ’میڈی پلس فلورائیڈ جیل‘ میں سب سے زیادہ 320 مائیکرو پلاسٹک کے ذرات فی 100 گرام پائے گئے۔ وہیں ’کلوز اپ ریڈ ہاٹ‘ اور ’کلوز اپ مینتھول فریش‘ میں 160-160 ذرات ملے۔ کوڈومو الٹرا شیلڈ فارمولا میں 140، سگنل گرین ٹی میں 120، جبکہ پیپسوڈنٹ ایڈوانس سالٹ اور ہیمالیا کمپلیٹ کیئر میں 100-100 ذرات پائے گئے۔ سینسوڈائن فریش منٹ میں 80 ذرات ملے۔
حالانکہ جانچ کیے گئے 8 نمونوں میں مائیکرو پلاسٹک نہیں ملا۔ ان میں جین فریش، پیرا شوٹ جسٹ فار بیبی مینگو اور کلوز اپ ریڈ ہاٹ زنک فریش ٹیکنالوجی جیسی مصنوعات شامل ہیں۔ شواہد سے پتا چلتا ہے کہ مائیکرو پلاسٹک نظام تنفس، نظام ہاضمہ، مدافعتی نظام، دل اور اعصابی نظام کو متاثر کر سکتے ہیں، جس سے ممکنہ طور پر سوجن، اعضاء کو نقصان، ہارمونز کا عدم توازن، افزائش نسل کی صلاحیت میں کمی اور جنین کے ارتقاء پر اثر پڑ سکتا ہے۔
قابل ذکر ہے کہ مائیکرو پلاسٹک 5 ملی میٹر سے بھی کم لمبائی کے پلاسٹک کے چھوٹے ٹکڑے ہوتے ہیں جو گلے سڑے کچرے، مصنوعی کپڑوں اور مصنوعی موتیوں سے بنتے ہیں۔ یہ ہوا، پانی اور مٹی کو آلودہ کرتے ہیں اور جانوروں اور انسانوں کے جسم میں بھی داخل ہو سکتے ہیں۔ ان سے صحت پر سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
