’طلبہ کو دھمکیاں دی جا رہیں، امت شاہ جواب دیں، مودی معافی مانگیں‘، کھڑگے مودی حکومت پر حملہ آور
کانگریس صدر نے کہا کہ احتجاج میں شریک طلبہ کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں، بہار اور بنگال میں نوجوانوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیپر لیک اور طلبہ پر کارروائی پر مودی حکومت کو جواب دینا چاہئے

نئی دہلی: کانگریس کے قومی صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھڑگے نے طلبہ کے حالیہ احتجاج اور ان کے خلاف پولیس کارروائی پر مودی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج میں شریک نوجوانوں کو نہ صرف دھمکیاں دی جا رہی ہیں بلکہ بہار اور مغربی بنگال میں کئی طلبہ کو زبردستی حراست میں بھی لیا گیا ہے۔ کھڑگے نے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو اس معاملے پر پارلیمنٹ اور ملک کے سامنے جواب دینا ہوگا، جبکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو عوام سے معافی مانگنی چاہیے۔
ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں کہا کہ مودی حکومت کی دھمکیوں سے آج کا نوجوان ڈرنے والا نہیں ہے۔ ان کے مطابق احتجاج میں حصہ لینے والے طلبہ کو مسلسل دباؤ کا سامنا ہے اور مختلف ریاستوں میں ان کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پہلے احتجاج کرنے والے نوجوانوں پر لاٹھی چارج کیا گیا، پیلٹ گن کا استعمال ہوا، اور اب احتجاج ختم ہونے کے بعد ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک کی جانچ کی جا رہی ہے۔ کھڑگے نے اسے ’خوف زدہ اور آمرانہ ذہنیت‘ کی علامت قرار دیتے ہوئے کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کی کوشش جمہوری اقدار کے خلاف ہے۔
کانگریس صدر نے حکومت سے کئی سوالات بھی اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ تعلیمی شعبے میں اصلاحات اور پیپر لیک کی روک تھام کے لیے تشکیل دی گئی ڈاکٹر رادھا کرشنن کمیٹی کی سفارشات پر 766 دن گزرنے کے باوجود عمل کیوں نہیں ہوا۔ انہوں نے یہ سوال بھی کیا کہ پیپر لیک روکنے کے لیے قانون منظور ہونے کے باوجود مختلف امتحانات میں پرچے لیک ہونے کے واقعات کیوں سامنے آتے رہے۔
کھڑگے نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (این ٹی اے) کا معاملہ بھی اٹھاتے ہوئے کہا کہ 647 دن تک ادارے کو مستقل ڈائریکٹر کیوں فراہم نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک کا نوجوان روزگار اور شفاف امتحانی نظام سے متعلق جواب چاہتا ہے، لیکن حکومت ان سوالات سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس سے قبل راجیہ سبھا میں اپنے خطاب کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے بھی کھڑگے نے اس معاملے کو ہندوستانی جمہوریت پر سنگین حملہ قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ طلبہ کو صرف اپنی آواز بلند کرنے پر مارا پیٹا گیا، گھسیٹا گیا اور مجرموں کی طرح برتاؤ کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ بہار میں طلبہ کے خلاف اے کے-47 کے استعمال کی اطلاعات کتنی درست ہیں اور بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں طلبہ کو کیوں حراست میں لیا جا رہا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ طلبہ کے احتجاج اور ان پر پولیس کارروائی کا معاملہ پیر کو لوک سبھا اور راجیہ سبھا دونوں ایوانوں میں بھی گونجا۔ اپوزیشن ارکان نے اس مسئلے پر شدید ہنگامہ کیا، جس کے باعث لوک پریکشا (ترمیمی) بل پر مجوزہ بحث بھی نہ ہو سکی۔ حکومت کی جانب سے کھڑگے کے تازہ الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
