بنگلہ دیش میں تشدد کا منظر، تصویر سوشل میڈیا
بنگلہ دیش کی سورش زدہ حالات میں نظم ونسق کی صورتحال پرسنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں طلب لیڈروں کو پولیس اسٹیشن کے اندر کھلےعام پولیس اہلکاروں کو دھمکیاں دیتے ہوئے دکھایا گیا ہے جس کی ’قومی آواز‘ ذرائع تصدیق نہیں کرتے۔ یہ واقعہ جمعہ کی دوپہرمشرقی ضلع حبیب گنج میں اس وقت پیش آیا جب ایس اے ڈی کے رہنما تھانے پہنچے اورایک ملزم کی رہائی کا مطالبہ کیا۔
Published: undefined
ویڈیو کے مطابق ایس اے ڈی لیڈر پولیس افسران سے انعام الحسن عرف نین کی رہائی کا مطالبہ کر رہے تھے۔ نین، مبینہ طور پر کالعدم چھاترا لیگ کا سابق رہنما بتایا گیا ہے جس کو جمعرات کی رات حراست میں لیا گیا تھا۔ اس پر بنگلہ دیش عوامی لیگ سے وابستہ طلبہ تنظیم سے روابط کا الزام ہے۔
Published: undefined
چھاترا لیگ اس وقت کی وزیراعظم شیخ حسینہ کی زیر قیادت عوامی لیگ کی طلبہ ونگ تھی جس پر 2024 میں حکومت کا تختہ پلٹنے کے بعد محمد یونس انتظامیہ نے پابندی عائد کردی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ایس اے ڈی تحریک میں اسلامی عناصر کے حاوی ہونے کے بعد حسینہ حکومت کا زوال ہوا۔ وائرل فوٹیج میں حبیب گنج ضلع ایس اے ڈی یونٹ کے جنرل سکریٹری مہدی حسن پولس افسران کے سامنے بیٹھ کر کھلے عام 2024 کے تشدد کا ذکر کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ اگست 2024 میں انہوں نے بنیاچنگ پولیس اسٹیشن کو آگ لگا دی تھی اور ایک ہندو پولیس افسر سب انسپکٹر سنتوش چودھری کو زندہ جلا دیا گیا تھا۔ ان کا ارادہ پولیس کو یہ وارننگ دینا تھا کہ اگر نین کو رہا نہیں کیا گیا تو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
Published: undefined
ڈھاکہ کے روزنامہ ’پرتھم الو‘ کی رپورٹ کے مطابق ایس اے ڈی کے رہنما اور کارکن ابوالکلام، شائستہ گنج پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر اور دیگر پولیس اہلکاروں کے سامنے بیٹھے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایک موقع پر مہدی حسن یہ کہتے ہوئے سنے جاتے ہیں کہ یہ حکومت ہم نے بنائی پھر بھی آپ ہمارے لڑکوں کو اٹھا رہے ہیں اور اب سودے بازی کر رہے ہیں۔
Published: undefined
انہوں نے 2024 کے تشدد کو یاد دلاتے ہوئے کہا کہ حبیب گنج ان علاقوں میں سے ایک تھا جہاں سب سے اہم احتجاج ہوا اور 17 لوگ ’شہید‘ ہوئے تھے۔ اس ویڈیو نے بنگلہ دیش میں پولیس کی غیر جانبداری اور حکومت کے کنٹرول کے بارے میں بحث چھیڑ دی ہے۔ تاہم اس حوالے سے ابھی تک کوئی تفصیلی سرکاری بیان جاری نہیں کیا گیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined