
ایران پر اسرائیل کا حملہ (فائل)، تصویر ’انسٹاگرام‘
ایران کے شہر میناب میں ایک پرائمری اسکول پر ہونے والے مہلک حملے کے معاملے پر امریکی محکمہ دفاع کی خاموشی نے نئے سوالات کو جنم دے دیا ہے۔ خبر رساں ادارے بی بی سی ہندی کے مطابق امریکہ کے پانچ سابق اعلیٰ عہدیداروں، جن میں ایک سابق سینئر فوجی وکیل بھی شامل ہیں، نے پینٹاگون پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اتنے وقت گزرنے کے باوجود بنیادی معلومات تک جاری نہ کرنا غیر معمولی ہے۔
Published: undefined
ایرانی حکام کے مطابق 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی کے ابتدائی مرحلے میں میناب کے ایک اسکول پر میزائل گرا، جس کے نتیجے میں تقریباً 168 افراد ہلاک ہوئے، جن میں 110 بچے شامل تھے۔ اس افسوسناک واقعے کے بعد دو ماہ گزرنے کے باوجود پینٹاگون کی جانب سے صرف یہ کہا گیا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید معلومات بعد میں فراہم کی جائیں گی۔
مارچ کے اوائل میں امریکی میڈیا میں یہ خبر سامنے آئی تھی کہ ابتدائی فوجی تحقیقات میں امکان ظاہر کیا گیا کہ یہ حملہ غیر ارادی طور پر امریکی افواج کی جانب سے ہوا ہو سکتا ہے، تاہم حتمی نتیجہ سامنے نہیں آیا۔ اس کے باوجود پینٹاگون نے اس حوالے سے کسی واضح مؤقف کا اظہار نہیں کیا۔
Published: undefined
سابق فوجی قانونی مشیر ریچل وین لینڈنگم نے اس صورتحال کو ماضی کی پالیسی سے بالکل مختلف قرار دیتے ہوئے کہا کہ پہلے امریکی حکومتیں کم از کم جنگی قوانین کے احترام اور شفافیت کا مظاہرہ کرتی تھیں، مگر موجودہ رویہ اس کے برعکس ہے۔ ان کے مطابق جوابدہی کی کمی تشویشناک ہے اور یہ یقین دہانی بھی نظر نہیں آتی کہ ایسی غلطی دوبارہ نہیں ہوگی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 7 مارچ کو بیان دیا تھا کہ ان کے خیال میں اس حملے کا ذمہ دار ایران ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ بعد ازاں جب ان سے ممکنہ امریکی کردار کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔
Published: undefined
سابق دفاعی مشیر ویس برائنٹ نے کہا کہ جب کسی واقعے میں شہری ہلاکتوں اور امریکی سرگرمی دونوں کے شواہد موجود ہوں تو باقاعدہ تحقیقات شروع کی جاتی ہیں، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ حکام کو پہلے ہی کچھ علم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنا ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے ڈیموکریٹ اراکین نے بھی بارہا سوالات اٹھائے ہیں، مگر انہیں موصول ہونے والے سرکاری خطوط میں واضح جوابات نہیں دیے گئے۔ بعض ریپبلکن رہنماؤں نے بھی اس معاملے پر تبصرے سے گریز کیا ہے، جس سے شکوک میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
ماضی کے واقعات سے موازنہ کیا جائے تو امریکہ نے شہری ہلاکتوں کے معاملات میں نسبتاً جلدی ذمہ داری قبول کی اور معذرت بھی کی، مگر میناب کے معاملے میں غیر معمولی خاموشی برقرار ہے، جسے ماہرین شفافیت کے فقدان اور سیاسی دباؤ کا نتیجہ قرار دے رہے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined