
روسی حملے کے متاثرین (فوٹو @ZelenskyyUa)
یوکرین میں پیر کو روسی میزائلوں اور ڈرون حملوں میں کم از کم 12 عام لوگوں کی موت ہو گئی، جبکہ 40 دیگر زخمی ہو گئے۔ صدر زیلنسکی نے ان حملوں کو خوفناک بتایا ہے۔ روس نے 4 سال سے زیادہ وقت قبل جب سے اپنے پڑوسی ملک پر پوری طاقت سے حملہ کیا ہے، تب سے اس کی افواج یوکرین کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے اور اس کے لوگوں کے حوصلے پست کرنے کے لیے بمباری کر رہی ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس مدت کے دوران 16 ہزار سے زائد یوکرینی شہری مارے جا چکے ہیں۔
Published: undefined
نپرا پیٹروسک علاقے کے سربراہالیکساندر ہنزا نے بتایا کہ بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے والی ایک روسی میزائل وسطی شہر نپرو سے ٹکرائی جس میں 6 لوگوں کی موت ہوگئی اور 29 لوگ زخمی ہو گئے۔ زیلنسکی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ روسی ڈرون نے جنوبی شہر زاپورشیا میں مسافروں سے بھری ایک منی بس پر بھی حملہ کیا جس میں 3 لوگوں کی موت ہو گئی اور ایک بچہ سمیت 6 لوگ زخمی ہو گئے۔
Published: undefined
نیشنل پولیس نے بتایا کہ روسی ڈرون نے شمال مشرقی سمی علاقے میں ایک 69 سالہ خاتون اور ایک 77 سالہ شخص کی بھی جان لے لی۔ خرکیف کے میئر ایہور تیریخوف نے کہا کہ شمال مشرقی شہر میں دن کے وقت ہوئے روسی حملے میں ایک شخص کی موت ہوگئی اور 5 دیگر زخمی ہو گئے۔ حکام نے بتایا کہ یوکرین کے کم سے کم 6 دیگر علاقوں میں بھی مہلک حملے ہوئے۔ اس بارے میں فوری طور پر زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہو پائی ہیں۔
Published: undefined
گرڈ آپریٹر ’یوکرینرگو‘ نے بتایا کہ پیر کو روسی حملوں کے بعد یوکرین کے 8 علاقوں میں کچھ صارفین کی بجلی منقطع ہو گئی۔ اس کے ساتھ ہی گرمی بڑھنے کی وجہ سے لوگوں نے ائیر کنڈیشنر چلائے جس سے بجلی کا استعمال بھی بڑھ گیا۔ اس دوران صدر زیلنسکی نے یورپ سے روسی بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کے لیے فضائی دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کی اپنی اپیل کا اعادہ کیا۔ زیلنسکی نے کہا کہ لوگوں کو ایسے خوفناک حملوں سے بچانے کی ضرورت ہے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ ہمارے پاس اینٹی بیلسٹک ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کہ یورپ اپنا خود کا اینٹی بیلسٹک دفاعی نظام اور میزائلیں تیار کرنے میں پوری طرح مصروف رہے۔
Published: undefined
مغربی حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں جنگ میں بڑی تبدیلی آئی ہے۔ یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملوں کے باعث روس اور روس کے زیر قبضہ علاقوں میں ایندھن کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ان حملوں نے مشرقی اور جنوبی یوکرین میں فرنٹ لائن پر تعینات روسی افواج کی سپلائی لائنز کو کمزور کر دیا ہے جس سے ان کی پیش قدمی سست ہو گئی ہے۔ یوکرین کی جدید ڈرون انجینئرنگ نے اسے برتری دلائی ہے اور اسے اس ٹیکنالوجی کے فوجی استعمال میں عالمی لیڈر بنا دیا ہے۔ پہلے غیر ملکی فوجی مدد کی فریاد کرنے والا یوکرین اب اتحادی ممالک کی مدد کر رہا ہے۔
Published: undefined
اس سے قبل روسی صدر ولادیمیر پوتن نے اتوار کے روز اعتراف کیا کہ یوکرین کے روسی تیل کی تنصیبات پر طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرون حملوں کی وجہ سے ایندھن کی قلت پیدا ہوئی ہے۔ اس بحران کی وجہ سے لوگوں میں غصہ اور مایوسی پھیل گئی ہے، جس سے وہ گیس اسٹیشنوں پر لمبی قطاروں میں انتظار کرنے پر مجبور ہیں لیکن پوتن نے حملے کو ختم کرنے کے لیے کوئی رعایت دینے سے انکار کر دیا اور زور دے کر کہا جسے انہوں نے عارضی جھٹکا بتایا، اس کے باوجود روس بالآخر جنگ جیتے گا۔
Published: undefined
کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا کہ یوکرین کے بارے میں روس کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ روسی فوجی محاذ پر اپنی جارحیت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پیسکوف نے صحافیوں کو بتایا کہ ان کی کوششوں سے ہمیں بھروسہ ہے کہ ہمارے اہداف حاصل ہوجائیں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ کے میدان میں روس کی سبقت سست پڑتی جارہی ہے۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined