روس کا یوکرین پر بڑا حملہ، مذہبی مقام میں لگی آگ، بمباری کی زد میں آئے رہائشی علاقے، 5 افراد کی موت
یوکرینی وزیر داخلہ کے مطابق خارکیف میں روسی حملے کے بعد لگی آگ کو بجھانے پہنچنے والے امدادی کارکن دوسرے حملے کی زد میں آ گئے۔ اس حملے میں 5 امدادی کارکنان کی موت ہو گئی۔

گزشتہ تین سالوں سے جاری روس-یوکرین جنگ کے درمیان پیر کے روز روس نے یوکرین پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا، جس میں راجدھانی کیف اور خارکیف سب سے زیادہ متاثر رہے۔ اس حملے میں خارکیف میں 5 امدادی کارکنان کی موت ہو گئی، جبکہ کیف میں کم از کم 13 لوگ زخمی ہوئے ہیں۔ حملے کے دوران کئی رہائشی عمارتوں، بازاروں اور شہری ٹھکانوں کو نقصان پہنچا۔ سب سے شدید نقصان یوکرین کے سب سے اہم مذہبی اور تاریخی مقامات میں سے ایک ’کیف-پیچیرسک لاورا‘ کو ہوا، جہاں شدید آگ لگ گئی۔ یوکرینی حکام نے روس پر جان بوجھ کر شہری ٹھکانوں اور ثقافتی ورثے کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کیا ہے۔
یوکرین کے وزیر داخلہ اہور کلائمینکو کے مطابق خارکیف میں روسی حملے کے بعد لگی آگ کو بجھانے پہنچنے والے امدادی کارکن دوسرے حملے کی زد میں آ گئے۔ اس حملے میں 5 امدادی کارکنان کی موت ہو گئی، جبکہ کم از کم 5 دیگر ہنگامی خدمات کے اہلکار زخمی ہو گئے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب امدادی اور بچاؤ کا کام جاری تھا۔ یوکرینی انتظامیہ نے اسے انتہائی سنگین اور تشویشناک واقعہ قرار دیا ہے۔ دوسری جانب راجدھانی کیف میں بھی بیلسٹک میزائلوں اور ’شاہد‘ ڈرونز کے ذریعے کئی حملے کیے گئے، جس کے بعد لوگوں کو زیر زمین پناہ گاہوں میں جانا پڑا۔
کیف سٹی ملٹری ایڈمنسٹریشن کے سربراہ تیمور تکاچینکو نے دعویٰ کیا کہ روس نے جان بوجھ کر رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ شیوچینکیوسکی ضلع میں 30 منٹ کے اندر 5 حملے ہوئے، جن میں ایک 25 منزلہ اپارٹمنٹ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ ایک بازار اور گروسری اسٹور میں بھی آگ لگ گئی۔ اوبولونسکی ضلع میں ایک 9 منزلہ رہائشی عمارت براہ راست حملے کی زد میں آئی۔ حکام کے مطابق ان حملوں میں ایک بچہ سمیت 13 افراد کو طبی امداد کی ضرورت پڑی۔ یوکرین کا الزام ہے کہ ان حملوں کا مقصد شہریوں میں خوف و ہراس پیدا کرنا اور بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانا تھا۔
روسی حملے میں ’کیف-پیچیرسک لاورا‘ کمپلیکس کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ یہ یوکرین کے قدیم ترین اور اہم ترین عیسائی مذہبی مقامات میں سے ایک ہے۔ حملے کے دوران ڈورمیشن کیتھڈرل کی چھت میں آگ لگ گئی۔ یوکرین کے آرتھوڈوکس چرچ کے سربراہ میٹروپولیٹن ایپی فینیئس نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت، تاریخ اور عیسائیت کے خلاف جرم قرار دیا۔ 11ویں سے 19ویں صدی کے درمیان تعمیر ہونے والا یہ کمپلیکس یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔ یہاں واقع چرچ، خانقاہیں اور زیر زمین غاریں صدیوں سے زائرین اور سیاحوں کی توجہ کا مرکز رہی ہیں۔ یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ اس مقام کو پہنچنے والا نقصان نہ صرف یوکرین بلکہ عالمی ثقافتی ورثے کے لیے بھی ایک بڑا جھٹکا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
