ستیندر جین کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیجا گیا، ضمانت پر 25 اگست کو سماعت

دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے دہلی جل بورڈ معاملے میں سابق وزیر ستیندر جین کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے والی عرضی مسترد، ضمانت پر 25 اگست کو سماعت ہوگی

<div class="paragraphs"><p>ستیندر جین، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

نئی دہلی: دہلی جل بورڈ سے متعلق مبینہ بدعنوانی کے معاملے میں گرفتار عام آدمی پارٹی کے رہنما اور دہلی حکومت کے سابق وزیر ستیندر جین کو راؤز ایونیو عدالت نے عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ عدالت نے ستیندر جین کی گرفتاری کو غیر قانونی قرار دینے کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ ان کی ضمانت کی درخواست پر 25 اگست کو سماعت ہوگی۔

راؤز ایونیو عدالت نے ستیندر جین کی ضمانت کی درخواست پر انسداد بدعنوانی شاخ (اے سی بی) کو نوٹس جاری کیا ہے۔ عدالت نے اس معاملے میں گرفتار دیگر ملزمان میں سے ایک انکت شریواستو کو دو دن کی پولیس حراست میں بھیجنے کا حکم دیا، جبکہ ستیندر جین سمیت باقی پانچ ملزمان کو 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا۔

اے سی بی نے دہلی جل بورڈ کے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ (ایس ٹی پی) سے متعلق ٹینڈر میں مبینہ بے ضابطگیوں اور بدعنوانی کے الزام میں منگل، 18 اگست کو چھ افراد کو گرفتار کیا تھا۔


گرفتار ہونے والوں میں ستیندر جین کے علاوہ دہلی جل بورڈ کے سابق چیف ایگزیکٹو افسر اور آئی اے ایس افسر ادت پرکاش رائے، دہلی جل بورڈ کے سابق کنٹریکچوئل کنسلٹنٹ انکت شریواستو، اے این انٹرپرائزز کے مالک ناگیندر یادو، یوروٹیک انوائرمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ کے مالک راجا کمار کُرا اور سریجنہار کے مالک پنکج ورما شامل ہیں۔

ادت پرکاش رائے کی ضمانت کی درخواست پر بھی عدالت میں سماعت ہوگی۔ ان کی درخواست پر جمعرات، 20 اگست کو سماعت مقرر کی گئی ہے۔

اے سی بی کے مطابق اس معاملے میں ایف آئی آر 11 مئی 2024 کو درج کی گئی تھی۔ مقدمے میں انسداد بدعنوانی قانون کے علاوہ دھوکہ دہی، مجرمانہ اعتماد شکنی اور مجرمانہ سازش سے متعلق دفعات عائد کی گئی ہیں۔

تحقیقاتی ایجنسی کا الزام ہے کہ ٹینڈر کی تکنیکی شرائط اور اسپیسفکیشن میں مبینہ طور پر ایسی تبدیلیاں کی گئیں جن سے ایک مخصوص ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی، یوروٹیک انوائرمنٹ پرائیویٹ لمیٹڈ، کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔ اے سی بی کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مجوزہ پائلٹ اسٹڈی نہیں کرائی گئی اور ٹینڈر میں ایسی تکنیکی شرائط شامل کی گئیں جن سے دیگر کمپنیوں کے لیے مسابقت کے امکانات محدود ہو گئے۔


اے سی بی کے مطابق ٹینڈر کی شرائط، تکنیکی اسپیسفکیشن، کوریجینڈم اور دیگر دستاویزات مبینہ طور پر پہلے ہی نجی افراد، سرکاری افسران اور بیچولیوں کے درمیان شیئر کی گئی تھیں اور بعد میں انہی نکات کو دہلی جل بورڈ کے ٹینڈر میں شامل کیا گیا۔

تحقیقاتی ایجنسی کا کہنا ہے کہ الیکٹرانک شواہد کے تجزیے میں نجی کمپنیوں اور سرکاری حکام کے درمیان مبینہ رابطوں اور سازباز کے شواہد سامنے آئے ہیں۔ ایجنسی کا دعویٰ ہے کہ مبینہ طور پر ٹینڈر کے عمل کو متاثر کرنے سے سرکاری خزانے پر بھی بڑا مالی بوجھ پڑا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔