
آئی اے این ایس
اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کشیدگی کا سب سے زیادہ خمیازہ بچوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے، جہاں اب تک 2100 سے زائد بچے یا تو جان کی بازی ہار چکے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں۔ یہ انکشاف اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف کے نائب ایگزیکٹو ڈائریکٹر ٹیڈ چیبن نے نیویارک میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس تنازع کو شروع ہوئے 23 دن گزر چکے ہیں اور اس دوران پورے خطے میں بچوں کی زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق اگر جنگ کا دائرہ مزید وسیع ہوا یا یہ طویل عرصے تک جاری رہی تو لاکھوں مزید بچوں کو سنگین حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
Published: undefined
اقوامِ متحدہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ہلاک یا زخمی ہونے والے بچوں میں 206 ایران میں، 118 لبنان میں، چار اسرائیل میں اور ایک کویت میں شامل ہے۔ ٹیڈ چیبن نے کہا کہ اس تنازع کے دوران اوسطاً روزانہ 87 بچے یا تو ہلاک ہو رہے ہیں یا زخمی ہو رہے ہیں، جو صورت حال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مسلسل فضائی حملوں اور انخلا کے احکامات نے لاکھوں افراد کو اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ایران میں اقوامِ متحدہ کے اندازے کے مطابق تقریباً 32 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، جن میں 8 لاکھ 64 ہزار بچے شامل ہیں۔ اسی طرح لبنان میں 10 لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں تقریباً 3 لاکھ 70 ہزار بچے ہیں۔
Published: undefined
ٹیڈ چیبن نے مزید کہا کہ اس جنگ سے پہلے ہی مشرقِ وسطیٰ میں تقریباً 4 کروڑ 48 لاکھ بچے ایسے حالات میں زندگی گزار رہے تھے جو کسی نہ کسی طرح تنازعات سے متاثر تھے، اور اب یہ صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔
لبنان کے حالیہ دورے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہاں کے حالات انتہائی تشویشناک ہیں۔ 350 سے زائد سرکاری اسکولوں کو امدادی کیمپوں میں تبدیل کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے تقریباً ایک لاکھ بچوں کی تعلیم متاثر ہوئی ہے۔ پانی اور صفائی کے نظام میں بھی شدید خلل پیدا ہوا ہے جبکہ امدادی سرگرمیوں کے دوران کئی طبی اہلکار اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
Published: undefined
یونیسف کے مطابق اب تک 250 سے زائد کیمپوں اور دور دراز علاقوں میں ایک لاکھ 51 ہزار بے گھر افراد تک ضروری امداد پہنچائی جا چکی ہے، جبکہ 188 کیمپوں میں تقریباً 46 ہزار افراد کو صاف پانی اور حفظانِ صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ تاہم ادارے نے خبردار کیا ہے کہ ضروریات تیزی سے بڑھ رہی ہیں اور دستیاب وسائل ناکافی ثابت ہو رہے ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ تمام فریقین کو بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کرنی چاہیے اور فوری طور پر جنگ بندی کے لیے سیاسی حل تلاش کرنا ضروری ہے، تاکہ معصوم بچوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined