
ظہران ممدانی کی حلف برداری کا منظر / Getty Images
امریکہ کے معروف شہر نیویارک سٹی میں ایک تاریخی لمحہ اس وقت سامنے آیا جب ظہران ممدانی نے شہر کے 112ویں میئر کی حیثیت سے حلف لیا۔ حلف برداری کے دوران انہوں نے قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر عہدے اور راز داری کا حلف لیا، جسے امریکی سیاست میں ایک علامتی اور غیر معمولی واقعہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس موقع نے نہ صرف شہر بلکہ ملک بھر میں توجہ حاصل کی۔
Published: undefined
یہ حلف برداری کی تقریب روایتی سرکاری تقاریب سے مختلف انداز میں منعقد کی گئی۔ تقریب مین ہیٹن میں سٹی ہال پارک کے نیچے واقع پرانے سٹی ہال سب وے اسٹیشن کے پلیٹ فارم پر ہوئی۔ یہ تاریخی اسٹیشن اپنی محرابی چھت، رنگین شیشوں کی روشندانوں اور قدیم طرز کے فانوسوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ سن 1945 میں بند کیے گئے اس اسٹیشن کو عام طور پر عوام کے لیے نہیں کھولا جاتا اور یہاں کبھی کبھار محدود دورے کرائے جاتے ہیں۔
Published: undefined
34 سالہ ظہران ممدانی یوگانڈا میں پیدا ہوئے اور بعد میں امریکہ منتقل ہوئے۔ وہ نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر ہونے کے ساتھ ساتھ پہلے جنوبی ایشیائی نژاد میئر بھی ہیں، جبکہ گزشتہ 100 برس کے دوران سب سے کم عمر میئر بننے کا اعزاز بھی انہوں نے حاصل کیا ہے۔ ان کی کامیابی کو امریکی سیاست میں نمائندگی اور تنوع کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ظہران ممدانی کا تعلق ڈیموکریٹک سوشلسٹ نظریات سے ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران مہنگائی، رہائش کے بڑھتے اخراجات اور عام شہریوں کی روزمرہ مشکلات کو مرکزی موضوع بنایا۔ وہ کوئنز سے ریاستی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور ڈیموکریٹک پرائمری میں غیر متوقع کامیابی کے بعد قومی سطح پر نمایاں ہوئے۔
Published: undefined
انتخابی مہم کے دوران ممدانی نے عوام سے کئی بڑے وعدے کیے تھے، جن میں یونیورسل چائلڈ کیئر پروگرام کا آغاز، تقریباً 20 لاکھ کرایہ کنٹرول کے تحت رہنے والے مکینوں کے لیے کرایہ منجمد کرنا اور شہر کی بس سروس کو تیز اور مفت بنانا شامل ہے۔ ان وعدوں نے نوجوانوں، محنت کش طبقے اور متوسط آمدنی والے شہریوں میں ان کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔
نیویارک اسٹیٹ کی اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے انہیں حلف دلایا۔ ممدانی نے اس موقع پر انہیں اپنی سیاسی رہنمائی اور تحریک کا اہم ذریعہ قرار دیا۔ حلف اٹھانے کے بعد اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ وہ نیویارک سٹی کو زیادہ منصفانہ، قابلِ رہائش اور عام شہریوں کے لیے بہتر شہر بنانے کے لیے پوری سنجیدگی سے کام کریں گے۔
Published: undefined