
اے آئی
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کی لپیٹ میں ہے۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے عسکری تصادم نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔ حالیہ پیش رفت میں ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں کے بعد حالات تیزی سے بگڑ گئے ہیں۔ جیسے ہی حملوں میں ایران کے اعلیٰ رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای سمیت کئی اہم شخصیات کی موت کی خبریں سامنے آئیں، تناؤ نے مزید شدت اختیار کر لی۔
یہ ٹکراؤ اب محض دو یا تین ممالک تک محدود نہیں رہا بلکہ اس کے اثرات خلیجی خطے سے لے کر عالمی منڈیوں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ خطے میں جنگی ماحول، سفارتی بیانات اور فوجی سرگرمیوں نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
Published: undefined
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کی اسٹریٹیجک فوجی اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں کا مقصد ایران کے دفاعی اور جوہری ڈھانچے کو کمزور کرنا بتایا گیا۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق مختلف فوجی اڈوں، میزائل تنصیبات اور حساس مراکز کو نقصان پہنچا۔
حملوں کے فوری بعد ایران میں بڑے پیمانے پر تباہی اور اعلیٰ قیادت کے جانی نقصان کی خبریں منظر عام پر آئیں۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ وسیع تر علاقائی جنگ کے امکانات کھل کر سامنے آنے لگے۔
Published: undefined
ایران کی اہم فوجی تنظیم سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) نے مشترکہ حملوں کے جواب میں سخت ردعمل کا اعلان کیا۔ تنظیم کے مطابق اس نے 27 امریکی فوجی ٹھکانوں کے علاوہ اسرائیل اور امریکہ کے اتحادیوں کے بعض ہوائی اڈوں اور فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی براہِ راست جوابی اقدام تھا۔ اس دعوے کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی اور مختلف ممالک نے اپنی دفاعی تیاریوں کو تیز کر دیا۔
اطلاعات کے مطابق سعودی آرامکو کی راس تنورہ ریفائنری کے اطراف ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے بعد عارضی طور پر آپریشن روکنا پڑا۔ راس تنورہ مشرقِ وسطیٰ کی بڑی آئل ریفائنریوں میں شمار ہوتی ہے اور عالمی توانائی کی رسد میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔
سیکورٹی وجوہات کی بنا پر تنصیبات کو بند کر کے آگ اور ممکنہ نقصانات پر قابو پانے کی کوشش کی گئی۔ اس حملے کو ایران کی علاقائی جوابی کارروائیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کے باعث خلیج کے دیگر حصوں میں بھی ڈرون اور میزائل سرگرمیوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔
Published: undefined
لبنان میں قائم تنظیم حزب اللہ نے بھی اس تصادم میں عملی شرکت کا اعلان کیا۔ تنظیم کے مطابق اس نے رات کے وقت اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے۔ حزب اللہ نے ان کارروائیوں کو ایرانی قیادت کے جانی نقصان کا بدلہ اور اسرائیلی کارروائیوں کا جواب قرار دیا۔
مبصرین کے مطابق یہ پہلا موقع ہے جب حزب اللہ نے اتنے وسیع پیمانے پر براہِ راست حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے، جس سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان مکمل جنگ کے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
سرحد پار حملوں کے بعد اسرائیل نے لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے۔ لبنانی حکام کے مطابق ان حملوں میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 149 زخمی ہوئے، جن میں بڑی تعداد جنوبی لبنان سے تعلق رکھتی ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں قومی سلامتی کے پیش نظر ضروری تھیں۔
Published: undefined
میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران میں اب تک 200 سے زائد افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں فوجی اہلکار، افسران اور عام شہری شامل ہیں۔ متعدد عمارتوں اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا ہے۔
اسرائیل میں ایرانی میزائل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 121 سے زائد زخمی ہوئے۔ تل ابیب سمیت کئی شہروں میں عمارتوں اور رہائشی علاقوں کو نقصان پہنچا۔
امریکی فوج کو بھی نقصان اٹھانا پڑا۔ اطلاعات کے مطابق کم از کم 3 امریکی فوجی ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے ہیں۔
جنگی صورتحال کے باعث کئی ممالک نے اپنے فضائی حدود میں نگرانی بڑھا دی یا عارضی پابندیاں عائد کر دیں۔ بین الاقوامی پروازوں کے روٹس تبدیل کیے جا رہے ہیں اور متعدد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں۔ ہندوستان سمیت کئی ممالک نے مشرقِ وسطیٰ سے گزرنے والی پروازوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی ہیں۔
Published: undefined
کشیدگی کے باعث عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ سونا اور چاندی جیسے محفوظ اثاثوں کی طلب میں اضافہ ہوا ہے۔ سرمایہ کار خطرات کے پیش نظر محتاط رویہ اختیار کر رہے ہیں۔
اس تصادم کا سب سے زیادہ اثر عام شہریوں پر پڑ رہا ہے۔ متاثرہ علاقوں سے لوگوں کی نقل مکانی شروع ہو گئی ہے۔ گھروں، بازاروں اور عوامی تنصیبات کو نقصان پہنچا ہے۔ اسپتالوں میں زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے باعث طبی سہولیات پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔ بین الاقوامی امدادی ادارے صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔
ماہرین کا خیال ہے کہ اگر موجودہ صورتحال پر جلد قابو نہ پایا گیا تو یہ تصادم وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ دیگر ممالک کی براہِ راست شمولیت کے امکانات بھی زیرِ بحث ہیں۔ فوجی کارروائیوں اور سیاسی بیانات کے درمیان مشرقِ وسطیٰ کا مستقبل فی الحال غیر یقینی دکھائی دے رہا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined