عالمی خبریں

ٹرمپ کے ڈنر میں فائرنگ کے سبب کھانا نہیں کھا پائے صحافی، 2600 لوگوں کا کھانا بھیجا گیا شیلٹر ہوم

ٹرمپ کی جانب سے صحافیوں کو دیئے گئے ڈنر میں فائرنگ کی وجہ سے مہمان کھانا نہیں کھا پائے۔ ڈنر میں بلاسٹر اور اسٹیک جیسے مہنگے کھانے شامل تھے جس کی ہر پلیٹ کی قیمت 230 ڈالر (تقریباً 33 ہزار روپئے) تھی۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، اے آئی</p></div>

علامتی تصویر، اے آئی

 

امریکہ کی راجدھانی واشنگٹن میں ہفتے کی رات وائٹ ہاؤس کوریسپانڈنٹ ڈنر کے دوران ہوئی فائرنگ کے سنسنی خیز واقعہ کے بعد مچی افراتفری کے سبب ہوٹل میں 2600 مہمانوں کے لیے تیار کیا گیا کھانا بغیر کھائے رہ گیا۔ یہ پروگرام مشہور’ہوٹل ہلٹن‘ میں رکھا گیا تھا جہاں امریکہ کے صدر ٹونالڈ ٹرمپ، ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ، نائب صدر، وزیردفاع، انٹیلی جنس سربراہ سمیت بڑی تعداد میں معززین اور سینئر صحافی موجود تھے۔

Published: undefined

فائرنگ اس وقت ہوئی جب امریکی صدر کی جانب سے صحافیوں کو دیا جانے والا سالانہ ڈنر پروگرام اپنے شباب پر تھا اور صدر ٹرمپ اسٹیج پر موجود تھے۔ اسی اثنا میں اچانک ایک حملہ آور نے گولی چلا دی جس سے وہاں افرا تفری مچ گئی۔ سیکورٹی ایجنسیوں نے فوراً کارروائی کی اور صدر ٹرمپ کو وہاں سے محفوظ جگہ پر لے جایا گیا۔ اس دوران ایک سروس افسر کو گولی لگی لیکن وہ بلیٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے بچ گیا۔ ملزم کو موقع ہر ہی حراست میں لے لیا گیا۔

Published: undefined

اس واردات کی وجہ سے ڈنر پوری  طرح سے رُک گیا اور مہمان کھانا نہیں کھا پائے۔ ڈنر میں بلاسٹر اور اسٹیک جیسے مہنگے کھانے شامل تھے۔ ہر پلیٹ کی قیمت 230 ڈالر (تقریباً 33 ہزار روپئے) تھی۔ اب سوال پیدا ہوا کہ تیار شدہ اتنے پکوانوں کا کیا جائے؟ ہلٹن ہوٹل نے اسے پھینکنے کی بجائے ضرورت مند لوگوں کو دینے کا فیصلہ کیا۔ ہلٹن ہوٹل نے تقریباً 2600 پلیٹ کھانا 2 شیلٹر ہومس کو عطیہ کر دیا جہاں گھریلو تشدد سے متاثر خواتین اور بچے رہتے ہیں۔ کھانے کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے پہلے اسے فریج کیا گیا تاکہ وہ زیادہ وقت تک محفوظ رہ سکے۔ اس کے  بعد اسے شیلٹر ہومس تک پہنچایا گیا۔

Published: undefined

’سی بی ایس‘ نیوز کی وائٹ ہاؤس نمائندہ ویجیا جیانگ نے ہوٹل کے اسٹاف کی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ مشکل حالات کے باوجود اسٹاف نے پوری رات کام کیا اور یقینی بنایا کہ کھانا خراب نہ ہو بلکہ ضرورت مندوں تک پہنچ جائے۔ ہوٹل کے ترجمان  نے بھی بتایا کہ عام طور پر ایسے پروگراموں کے بعد بچا ہوا کھانا مقامی اداروں کو عطیہ کرتے ہیں۔ اس بار بھی انہوں نے یہی کیا جو کھانے کا سامان استعمال کے قابل نہں تھا اسے پھینکنے کے بجائے کمپوسٹ بناکر کھیتی کے کام میں بھیج دیا گیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined