انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ میں خوفناک ریل حادثہ، 14 مسافر ہلاک، درجنوں افراد زخمی، راحت رسانی کا کام جاری
افسران نے بتایا کہ حادثے کا شکار ٹرین کا کوچ خواتین کے لیے ریزرو تھا، جنہیں استحصال سے بچانے کے لیے الگ رکھا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹکر کے بعد اسٹیشن پر افراتفری اور چیخ پکار مچ گئی۔

انڈونیشیا کی راجدھانی جکارتہ کے پاس بیکاسی تیمور اسٹیشن پر ہوئے ایک دردناک ٹرین حادثے میں 14 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں، جبکہ درجنوں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت انتہائی سنگین بنی ہوئی ہے، جس سے مہلوکین کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افسران نے منگل کے روز 14 ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ اطلاعات کے مطابق جکارتہ کے باہری علاقے میں پیر کی شب 2 ٹرینیں آپس میں متصادم ہو گئیں جس میں اب تک کم از کم 14 لوگوں کی موت ہوگئی۔ اس سلسلے میں افسران نے بتایا کہ کئی مسافر بری طرح تباہ ٹرین کے ڈبے میں پھنس گئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے جنگی پیمانے پر ریسکیو آپریشن چلایا گیا۔
ایک نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق افسران نے بتایا کہ حادثہ اس وقت ہوا جب ’آرگو برومو اینگرینک‘ نامی طویل مسافت طے کرنے والی ٹرین نے اسٹیشن پر کھڑی ایک کمپیوٹر ٹرین کے آخری کوچ کو پیچھے سے زوردار ٹکر مار دی۔ یہ ٹکر اتنی شدید تھی کہ کئی مسافر ملبے میں پھنس گئے۔ ملک کی سرکاری ریلوے کمپنی پی ٹی کیریٹا آپی انڈونیشیا نے 38 زخمیوں کو اسپتال پہنچائے جانے کی تصدیق ہے۔
افسران نے بتایا کہ حادثے کا شکار ہوئی ٹرین کا کوچ خواتین کے لیے ریزرو تھا جنہیں استحصال سے بچانے کے لیے الگ رکھا جاتا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق ٹکر کے بعد اسٹیشن پر افراتفری اور چیخ پکار مچ گئی۔ ریسکیو ٹیم کافی مشقت کے بعد حادثے میں تباہ ہوئے کوچ میں پھنسے ہوئے مسافروں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئی۔ غنیمت یہ رہی کہ آرگو برومو اینگرینک ٹرین میں سوار سبھی 240 مسافر محفوظ ہیں۔
جکارتہ پولیس سربراہ آصف اے ڈی سہیری نے بتایا کہ حادثے کی وجوہات کی جانچ شروع کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری ریلوے کمپنی نے حادثے کے لیے لوگوں سے معافی مانگی ہے۔ ادھر سوشل میڈیا پروائرل ویڈیو میں اسٹیشن پر بدحواس مسافروں اور اپنے رشتہ داروں کی تلاش میں مصروف لوگوں کی بھیڑ نظر آ رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ انٹونیشیا میں پرانے ریل نیٹورک سسٹم کی وجہ سے اس طرح کے حادثات پہلے بھی ہوتے رہے ہیں۔ جنوری 2024 میں مغربی جاوا میں 2 ٹرینوں کی ٹکر میں 4 لوگ مارے گئے تھے۔ وہیں 2010 میں وسطی جاوا میں ایک ٹرین نے دوسری ٹرین کو پیچھے سے ٹکر ماردی تھی جس میں 36 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اکتوبر 2013 میں بھی ایک بغیر چوکیدار والی کراسنگ پر ٹرین اور منی بس کے تصادم میں 13 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اب یہ حادثہ ایک بار پھر ریلوے سیکورٹی پر سوال کھڑے کر رہا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔