عالمی خبریں

نوروز اور عید الفطر کے موقع پر تہران پر اسرائیلی حملے، ایران کے جوابی وار سے خلیج میں کشیدگی شدید

نوروز اور عید الفطر کے موقع پر اسرائیل نے تہران پر حملے کیے جبکہ ایران نے خلیجی ممالک کے توانائی مراکز کو نشانہ بنایا۔ جنگ کے باعث خطے میں خوف و ہراس اور عالمی توانائی بحران شدت اختیار کر گیا ہے

<div class="paragraphs"><p>تہران میں نوروز اور عیدالفطر کی تیاریوں میں مصروف عوام / Getty Images</p></div>

تہران میں نوروز اور عیدالفطر کی تیاریوں میں مصروف عوام / Getty Images

 

ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ نے تیسرے ہفتے میں ایک نہایت حساس مرحلہ اختیار کر لیا ہے، جب ایرانی دارالحکومت تہران پر نوروز اور عید الفطر جیسے اہم مواقع کے دوران اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔ ایک طرف ایرانی عوام روایتی نوروز کی تیاریوں میں مصروف تھے، بازاروں میں سجاوٹ اور پھولوں کی خریداری جاری تھی، تو دوسری جانب رمضان کے اختتام پر عید الفطر کی خوشیاں بھی منائی جا رہی تھیں، مگر اسی دوران شہر کے مختلف حصوں میں دھماکوں کی آوازوں نے جشن کا ماحول خوف میں بدل دیا۔

Published: undefined

اسرائیلی فوج نے حملوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تہران میں ایرانی نظام کے اہم ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ یہ کارروائی ایک ایسے وقت میں ہوئی جب ایک روز قبل اسرائیل نے ایک بڑے گیس فیلڈ پر مزید حملے نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے کہا کہ گیس فیلڈ پر کارروائی اسرائیل نے خود کی اور اس میں امریکہ شامل نہیں تھا، تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کے جوہری اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

دوسری جانب ایران نے ان حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک میں توانائی کے اہم مراکز کو نشانہ بنایا، جہاں اس وقت عید الفطر منائی جا رہی تھی۔ گزشتہ روز سے جاری ان ایرانی حملوں میں اب تک قطر کے راس لفان صنعتی شہر، سعودی عرب کی تیل ریفائنری، کویت اور متحدہ عرب امارات کی تنصیبات زد میں آ چکی ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں نہ صرف بڑے پیمانے پر نقصان ہوا بلکہ عالمی توانائی سپلائی بھی متاثر ہوئی۔

Published: undefined

متحدہ عرب امارات کے شہر دبئی میں بھی شدید دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جہاں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے میزائلوں کو روکنے کی کوشش کی۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب مساجد میں عید کی نمازوں کی تیاری ہو رہی تھی، جس سے صورتحال کی سنگینی مزید واضح ہو گئی۔

ایران کے وزیر خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے توانائی ڈھانچے پر مزید حملے کیے گئے تو ایران مکمل طاقت کے ساتھ جواب دے گا۔ ان کے مطابق اب تک کیے گئے حملے محدود نوعیت کے تھے، لیکن آئندہ کسی بھی کارروائی کا جواب زیادہ سخت ہو سکتا ہے۔

Published: undefined

اس جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی واضح ہو رہے ہیں۔ تیل کی قیمتیں 119 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہیں جبکہ گیس کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے باعث عالمی سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے، جو دنیا کی توانائی ضروریات کے لیے نہایت اہم گزرگاہ ہے۔

جنگ کے نتیجے میں ایران میں تیرہ سو سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اسرائیل میں بھی جانی نقصان ہوا ہے۔ پورا خطہ اس وقت غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، اور عالمی طاقتیں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تاہم فی الحال حالات میں بہتری کے امکانات کم دکھائی دے رہے ہیں۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined