عالمی خبریں

قالیباف کا امریکی نائب صدر وینس پر طنز- ’ہارے ہوئے جواری کی طرح میز چھوڑ نہیں پا رہے‘

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے جے ڈی وینس کے انتخابی شکست کے اعتراف پر طنز کرتے ہوئے اسے ہارے جواری کی بے چینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اسرائیل فرسٹ کی جانب گامزن ہے

<div class="paragraphs"><p>باقر قالیباف / سوشل میڈیا</p></div>

باقر قالیباف / سوشل میڈیا

 

ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے اس بیان پر طنز کیا ہے کہ ریپبلکن پارٹی کی انتخابی شکست کی بڑی وجہ ایران کے ساتھ جنگ تھی۔ قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ وینس ہارے ہوئے جواری کی طرح بے چین ہیں، جو میز چھوڑ کر اٹھ نہیں پا رہا۔

قالیباف نے اپنی پوسٹ میں کہا کہ امریکی صدر اگلے دور کی جنگ کی تیاری کر رہے ہیں، جبکہ امریکہ ’اسرائیل فرسٹ‘ کے خطرناک موڑ پر ڈگمگا رہا ہے۔ انہوں نے وینس کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ طویل بیان دینے کے بجائے وہ اپنے ’باس‘ سے یہ بات براہِ راست کیوں نہیں کہتے۔ قالیباف نے اپنے پیغام میں صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا نام نہیں لیا، تاہم ’باس‘ سے ان کی مراد ٹرمپ دکھائی دیتی ہے۔

وینس نے ایکس پر طویل پوسٹ میں کہا تھا کہ ووٹروں کی تعداد پارٹی کی شکست کی بنیادی وجہ نہیں تھی۔ ان کے مطابق انتخابی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا تھا کہ کئی ریاستوں میں ریپبلکن ووٹر بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے نکلے، مگر ٹرمپ اور انہیں 2024 میں ووٹ دینے والے بہت سے افراد اس بار ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹ ڈال گئے۔

وینس نے کہا کہ ایک رائے شماری میں سابق ریپبلکن ووٹروں سے پوچھا گیا کہ انہیں دوبارہ پارٹی کی طرف لانے کے لیے کیا کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق جوابات میں ایران جنگ ختم کرنا، مہنگائی اور روزمرہ اخراجات پر توجہ دینا، امریکہ فرسٹ پالیسی اپنانا اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں تبدیلی شامل تھے۔ وینس نے ان وجوہات کو پارٹی کی شکست سے جوڑا اور کہا کہ جنگ ہی ہار کی اصل وجہ تھی۔

قالیباف کا یہ طنز امریکی انتخابات کے نتائج کے بعد سامنے آیا ہے، جن میں ڈیموکریٹس نے کانگریس کے دونوں ایوانوں میں کامیابی حاصل کی۔ انتخابی نتائج کی ابتدائی گنتی میں سینیٹ کی 100 نشستوں میں سے ڈیموکریٹس نے 54 اور ریپبلکنز نے 44 نشستیں حاصل کی تھیں؛ دو نشستوں کے نتائج اس وقت تک نہیں آئے تھے۔ ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں میں سے 240 ڈیموکریٹس اور 147 ریپبلکنز کے حصے میں آئیں، جبکہ متعدد نشستوں پر گنتی جاری تھی۔

قالیباف کے بیان میں وینس کے انتخابی تجزیے پر تنقید کے ساتھ امریکہ کی ایران پالیسی اور اسرائیل سے تعلقات پر بھی طنز کیا گیا۔ ان کا پیغام ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ریپبلکن رہنما شکست کی وجوہات پر گفتگو کر رہے ہیں اور وینس نے جنگ کے کردار کو نمایاں کیا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، صدر ٹرمپ نے بھی انتخابی نتائج پر گفتگو میں ایران کو شکست کے اسباب میں سے ایک قرار دیا تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔