اتر پردیش: دیوالی، چھٹھ اور دیگر تہواروں کے پیش نظر 5 سے 17 نومبر تک تمام پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ

جاری ہدایات کے مطابق 5 سے 17 نومبر تک تمام پولیس اہلکاروں اور افسران کو چھٹی نہیں دی جائے گی۔ صرف ناگزیر اور خصوصی حالات میں ہی متعلقہ افسران کو چھٹی منظور کرنے کا اختیار ہوگا۔

<div class="paragraphs"><p>یوپی پولیس، فائل فوٹو</p></div>
i

دیوالی، گووردھن پوجا، بھائی دوج، چھٹھ پوجا اور دیو دیوالی سمیت دیگر اہم تہواروں کے پیش نظر اتر پردیش حکومت نے ریاست بھر میں پولیس اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاست میں امن و قانون کی صورت حال برقرار رکھنے اور تہواروں کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (ڈی جی پی) راجیو کرشن نے احکامات جاری کر دیے ہیں۔ یہ حکم 5 نومبر سے 17 نومبر 2026 تک نافذ رہے گا۔

ڈی جی پی کی جانب سے جاری ہدایات کے مطابق اس مدت کے دوران ریاست کے تمام پولیس اہلکاروں اور افسران کو معمول کے حالات میں چھٹی نہیں دی جائے گی۔ صرف ناگزیر اور خصوصی حالات میں ہی متعلقہ افسران کو چھٹی منظور کرنے کا اختیار ہوگا۔ اس کا مطلب ہے کہ تہواروں کے دوران پولیس فورس کی زیادہ سے زیادہ دستیابی یقینی بنانے کے لیے عام تعطیلات اور دیگر رخصتوں پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔


ڈی جی پی راجیو کرشن نے ریاست کے تمام ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی)، ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (اے ڈی جی)، انسپکٹر جنرل (آئی جی)، ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اور اضلاع کے سینئر سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (ایس ایس پی) کو اس حکم پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ تہواروں کے دوران امن و امان برقرار رکھنا پولیس کی اہم ذمہ داری ہے اور اس کے لیے ضروری ہے کہ تمام اضلاع میں پولیس فورس پوری طرح مستعد اور دستیاب رہے۔

قابل ذکر ہے کہ نومبر کے اس عرصے میں دیوالی کے بعد گووردھن پوجا، بھائی دوج، چھٹھ پوجا اور دیو دیوالی جیسے اہم تہوار منائے جائیں گے۔ ان تہواروں کے دوران بازاروں، مذہبی مقامات، مندروں، گھاٹوں اور دیگر عوامی مقامات پر بڑی تعداد میں لوگوں کی آمد و رفت رہتی ہے۔ خاص طور پر چھٹھ پوجا کے موقع پر ندیوں، تالابوں اور دیگر آبی مقامات پر عقیدت مندوں کی بھیڑ جمع ہوتی ہے۔ اسی طرح دیو دیوالی کے موقع پر بھی مختلف شہروں میں مذہبی تقریبات اور اجتماعی پروگرام منعقد کیے جاتے ہیں۔ ایسے میں بھیڑ کو کنٹرول کرنے، ٹریفک کا نظام برقرار رکھنے اور کسی بھی ناخوشگوار صورت حال سے بچنے کے لیے پولیس کی اضافی تعیناتی ضروری سمجھی جا رہی ہے۔


ریاستی پولیس کے تمام ضلعی سربراہوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں امن و قانون کی صورت حال کا جائزہ لیں اور تہواروں کے دوران سیکورٹی کے لیے ضروری انتظامات پہلے سے مکمل کر لیں۔ حکومت کا مقصد تہواروں کو پرامن ماحول میں یقینی بنانا اور کسی بھی ممکنہ گڑبڑی سے بروقت نمٹنا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔