
ایران پر مسلط کردہ جنگ میں امریکہ کو ایک اور بڑا جھٹکا لگا ہے۔ ایف۔ 35 لڑطیارے کے بعد اب امریکی ایف۔ 15ای جنگی طیارہ ایران میں مار گرایا گیا ہے۔ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد اس طرح متعدد طیارے مارگرائے جانے کی خبریں ہیں۔ طیارے میں دو لوگ سوار تھے جن میں ایک پائلٹ اور پیچھے سیٹ پر ویپن سسٹم آفیسر شامل تھے۔ حالانکہ عملے کے دو ارکان میں سے ایک کو امریکی اسپیشل فورسز نے پہلے ہی بچا لیا ہے۔ وہیں دوسرے کرو کی تلاش جاری ہے۔ اس بات کی رپورٹ ’ایکسوس‘ اور ’سی بی ایس نیو‘ نے کی ہے۔
Published: undefined
ایرانی ٹی وی چینلز نے اعلان کیا ہے کہ اگر کوئی شہری امریکی پائلٹ یا پائلٹوں کو پکڑ کر پولیس یا فوج کے حوالے کرے تو اسے انعام دیاجائے گا۔ ٹی وی چینل کے اینکر نے کہا کہ آج مارے جانے والے امریکی پائلٹ کی تلاش کے لیے مسلح افواج نے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔ کوہگیلویہ اور بوئیر احمد صوبوں کے معزز شہریوں، اگر آپ دشمن کے پائلٹ یا آفیسر کو زندہ پکڑ کر پولیس اور مسلح افواج کے حوالے کر دیں تو آپ کو قیمتی انعام ملے گا۔
Published: undefined
کوہگیلویہ اور بوئیر احمد صوبے انتہائی دیہی اور پہاڑی علاقے ہیں جس کا کل رقبہ تقریباً 15,500 مربع کلومیٹر (5,900 مربع میل) ہے۔ ایرانی حکام نے پڑوسی صوبوں چہارمحل اور بختیاری میں بھی تلاشی لینے کی اپیل کی ہے۔ ایرانی ٹی وی پر ایک آن اسکرین پیغام میں عوام کو متنبہ کیا گیا کہ کہ اگر آپ انہیں دیکھیں تو گولی مار دیں۔ اس کے بعد مقامی لوگ امریکی پائلٹ کو پکڑنے کی کوشش کرنے کے لیے نجی گاڑیوں میں جائے حادثہ پر پہنچے۔
Published: undefined
اس دوران ایرانی مسلح افواج نے عوام پر زور دیا کہ وہ کسی کو پائلٹ کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہ دیں۔ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی نے ’ایکس‘پر لکھا کہ جنوب مغربی ایران میں بہت سے لوگ نجی گاڑیوں میں امریکی لڑاکا طیارے کے حادثے کی جگہ کے قریب پائلٹ کو پکڑنے کے لیے گئے ہیں۔ ایرانی مسلح افواج (آئی آر جی سی)نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی کو پائلٹ کے ساتھ بدسلوکی کی اجازت نہ دیں۔ سوشل میڈیا اور ایرانی نیوز سائٹس پر وائرل ہونے والی تصاویر اور ویڈیوز میں امریکی ہیلی کاپٹر اور دیگر طیارے حادثے کی جگہ پر کم اونچائی پر اڑتے ہوئے دکھائے گئے ہیں۔ یہ مناظر امریکہ کے بڑے میڈیا اداروں نے بھی رپورٹ کیے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined