
آئی اے این ایس
تہران: ایران کے سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کے امکان سے متعلق بیان پر دوٹوک ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک تہران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، امریکہ کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوگی۔
ایران کے سینیئر سکیورٹی عہدیدار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں ٹرمپ کے مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے بدلتے بیانات سے کسی کو الجھن میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ان کے مطابق ٹرمپ کبھی کہتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے اور پھر مذاکرات کے لیے تیار ہونے کی بات کرتے ہیں۔
رضائی کا یہ بیان ٹرمپ کی اس تازہ پیشکش کے جواب میں آیا ہے جس میں امریکی صدر نے کہا تھا کہ ایران جلدی اور کسی بھی قیمت پر معاہدہ کرنا چاہتا ہے اور امریکہ تہران کے ساتھ دوبارہ مذاکرات شروع کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا تھا کہ ’کمزور پڑ چکا ایران‘ جلد از جلد معاہدہ کرنا چاہتا ہے، تاہم امریکہ مذاکرات کرے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ وہ خود کریں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ واشنگٹن اس امکان کے لیے کھلا ہے۔
ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے رضائی نے کہا کہ تیل اور سمندری راستوں سے متعلق داؤ اب تبدیل ہو چکے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعد میں نقصان پر قابو پانے کی کوششیں مستقبل میں پیدا ہونے والی صورت حال کو روک نہیں سکیں گی۔ ایرانی عہدیدار نے اپنے مؤقف کو حتمی قرار دیتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا، "جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، تب تک کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے۔ بس یہی آخری بات ہے۔"
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی کے ساتھ ساتھ خطے میں سمندری سرگرمیوں اور تیل کی ترسیل سے متعلق خدشات بھی بڑھ رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، 18 جون کو امریکہ اور ایران نے خطے میں جاری تنازعات کو ختم کرنے کی کوششوں کے تحت ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، جس میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر کشیدگی کم کرنے کی بات شامل تھی۔ معاہدے کے تحت دونوں ممالک کو 60 دن کے اندر مذاکرات کے ذریعے حتمی سمجھوتے تک پہنچنا تھا، تاہم یہ مدت 17 اگست کو ختم ہو چکی ہے۔
دوسری جانب ایران کے جنوبی ساحل کے قریب پیر کی رات دو ماہی گیری کی کشتیوں کو ڈرون حملے میں نشانہ بنائے جانے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔ ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ’مہر‘ کے مطابق حملہ جنوبی بندرگاہی شہر کارگن کے ساحل اور لارک جزیرے کے قریب ہوا۔ ہرمزگان صوبے کے سیاسی و سکیورٹی امور کے نائب گورنر احمد نفیسی نے بتایا کہ واقعے کے بعد متعدد ماہی گیر لاپتا ہیں اور ان کی تلاش کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
اس سے قبل ایرانی پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) کی بحریہ نے دعویٰ کیا تھا کہ آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والا ایک بڑا تیل بردار جہاز دھماکے کا شکار ہو کر آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔ آئی آر جی سی کی سرکاری نیوز سروس ’سپاہ نیوز‘ کے مطابق ’ایل گایا‘ نامی سپر آئل ٹینکر آبی گزرگاہ کے جنوبی حصے میں ایک ممنوعہ راستے سے گزرنے کی کوشش کر رہا تھا، جہاں وہ بحری بارودی سرنگوں سے ٹکرا گیا۔ ایرانی بحریہ کے مطابق آگ پر قابو پانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں اور پورا جہاز آگ کی لپیٹ میں آ گیا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔