داروغہ بھرتی معاملہ پر پٹنہ میں طلبا کا زوردار ہنگامہ، وزیر اعلیٰ کی رہائش گھیرنے کی کوشش
کانگریس نے کہا کہ ’’ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا طلبا کا حق ہے، جسے کسی بھی قیمت پر روندا نہیں جا سکتا۔ بی جے پی کو طلبا پر لاٹھیاں چلانے کی جگہ ان سے بات کرنی چاہیے، معاملے کی جانچ کرانی چاہیے۔‘‘

بہار کی راجدھانی پٹنہ میں مختلف مقابلہ جاتی امتحانات کے امیدواروں کا غصہ پھوٹ پڑا ہے۔ بی ایس ایس سی، بی پی ایس ایس سی اور 70ویں بی پی ایس سی امتحان کی غیر جانبداری اور طریقۂ کار کو لے کر ہزاروں کی تعداد میں طلبا آج سڑکوں پر اتر آئے۔ گاندھی میدان سے وزیر اعلیٰ کی رہائش کا گھیراؤ کرنے نکلے مشتعل امیدواروں اور پولیس کے درمیان جے پی گولمبر کے پاس شدید تصادم بھی دیکھنے کو ملا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق گاندھی میدان سے نعرے بازی کرتے ہوئے نکلے امیدواروں کے زبردست ہجوم کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے جے پی گولمبر پر بیریکیڈنگ لگا دی تھی، لیکن طلبا کی تعداد اس قدر زیادہ تھی کہ انھوں نے لوہے کے بیریکیڈس کو توڑ دیا اور اس کے اوپر چڑھ گئے۔ جب امیدواروں نے بیریکیڈس کے بغل سے بھاگ کر آگے نکلنے کی کوشش کی تو پولیس نے طاقت کے زور پر انھیں روکا۔ اس کے بعد جائے وقوع پر حالات کشیدہ ہو گئے اور طلبا و پولیس کے درمیان زبردست نوک جھونک بھی ہوئی۔
ان مشتعل مظاہرین کا الزام ہے کہ 70ویں بی پی ایس سی امتحان اور 1799 عہدوں والی داروغہ بحالی کے طریقۂ کار میں بے ضابطگی ہوئی ہے، اس لیے انھیں فوراً رد کیا جائے۔ طلبا کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ بی ایس ایس سی کے لٹکے ہوئے امتحانات کو بغیر کسی تاخیر کے جلد از جلد منعقد کیا جائے۔ بھرتی کے عمل میں شفافیت یقینی بنانے اور مبینہ بے ضابطگیوں کی اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کرتے ہوئے یہ طلبا نعرے بازی بھی کر رہے تھے۔
طلبا کے اس مظاہرہ پر کانگریس کا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ ’ایکس‘ پر جاری ایک پوسٹ میں کانگریس نے لکھا ہے کہ ’’پٹنہ میں طلبا ایک بار پھر بدعنوانی کے خلاف سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔ طلبا کا کہنا ہے کہ داروغہ بھرتی اور بی پی ایس سی 70ویں امتحان میں شدید گڑبڑی اور دھاندلی ہوئی ہے، اس لیے یہ امتحان رد کیا جائے۔‘‘ کانگریس نے مزید لکھا ہے کہ ’’ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا طلبا کا حق ہے، جسے کسی بھی قیمت پر روندا نہیں جا سکتا۔ بی جے پی کو طلبا پر لاٹھیاں چلانے کی جگہ ان سے بات کرنی چاہیے، معاملے کی جانچ کرانی چاہیے۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
