دنیا کی کوئی بھی حکومت ان بڑی تبدیلیوں کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں، جو اے آئی معاشرے میں لا سکتا ہے: بل گیٹس
بل گیٹس کا کہنا ہے کہ ’’اے آئی کو صرف خطرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو دنیا کے غریب لوگوں کے لیے بہت بڑا فائدہ لا سکتا ہے۔‘‘

آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (اے آئی) کے حوالے سے اس وقت دنیا بھر میں بحث جاری ہے۔ روزانہ اے آئی کے حوالے سے ایسے دعوے ہو رہے ہیں جس سے عام انسان ڈرا ہوا ہے۔ ایک طرف جہاں اوپن اے آئی اور اینتھروپک کے سربراہ کہہ رہے ہیں کہ اے آئی پر لگام لگانا ہوگا، دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کہہ رہے ہیں کہ ہم اے آئی کو روک نہیں سکتے ورنہ چین آگے نکل جائے گا۔ اس درمیان مائیکروسافٹ کے شریک بانی بل گیٹس کا بھی اے آئی کے متعلق بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے وارننگ دی ہے کہ دنیا کی کوئی بھی حکومت ابھی ان بڑی تبدیلیوں کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں ہے جو اے آئی معاشرے میں لا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اے آئی سے نوکریوں پر اثر پڑ سکتا ہے، سائبر حملوں کا خطرہ بڑھ سکتا ہے اور لوگوں میں اے آئی سے بات چیت کی لت بھی لگ سکتی ہے۔
’رائٹرز‘ کو دیے گئے انٹرویو میں بل گیٹس نے کہا کہ حکومتوں کو اب صرف اے آئی کا فائدہ دیکھنے کے بجائے اس کے اثر سے نمٹنے کی تیاری بھی کرنی ہوگی۔ ان کے مطابق کوئی بھی حکومت اے آئی کے باعث آنے والی تبدیلیوں کے لیے اتنی تیاری نہیں کر رہی ہے جتنی کرنی چاہیے۔ واضح رہے کہ بل گیٹس پہلے اے آئی کو لے کر کافی پرامید رہے ہیں۔ ان کا ماننا رہا ہے کہ اے آئی صحت، تعلیم اور دوسرے ضروری شعبوں میں بڑی تبدیلی لا سکتی ہے۔ اب ان کا کہنا ہے کہ اس کی رفتار کے ساتھ کچھ ایسے خطرے بھی سامنے آ رہے ہیں جن کے لیے دنیا ابھی تیار نہیں ہے۔ ان میں سب سے بڑی تشویش نوکریوں کو لے کر ہے۔ اے آئی پہلے ہی ایسے کئی کام کرنے لگا ہے جو کچھ سال قبل تک انسانوں کے بھروسے تھے۔ آنے والے وقت میں اے آئی زیادہ کام کرنے لگے گا تو کئی نوکریوں کا طریقہ بدل سکتا ہے اور کچھ نوکریوں کی ضرورت بھی کم ہو سکتی ہے۔
بل گیٹس نے سائبر اٹیکس اور اے آئی پر مبنی خطرات کے متعلق بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اے آئی سے بات چیت کرنے والے ڈیجیٹل ساتھیوں کی بڑھتی مقبولیت کے حوالے سے بھی خبردار کیا ہے۔ ان کو ڈر ہے کہ لوگ ان سے ضرورت سے زیادہ منسلک ہو سکتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے اے آئی کی ہوڑ میں چین کی تیزی کی بھی تعریف کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اور چین دونوں کے پاس کئی ایسے ادارے ہیں جو دنیا کے سب سے بہتر اے آئی ماڈل بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ 14 ستمبر کو ٹرمپ نے ایک پوسٹ میں کہا تھا کہ اے آئی سلوڈاؤن نہیں ہو سکتا، کیونکہ چین یہی چاہتا ہے۔ بل گیٹس کے مطابق دونوں ممالک کے سب سے اچھے اے آئی ماڈل کے درمیان کا فرق بہت زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے اسے امریکہ اور چین کے درمیان ایک طرح کا بڑا اے آئی مقابلہ قرار دیا ہے۔ امریکی صدر اور وہاں کی اے آئی کمپنیوں کو بھی اسی بات کا ڈر ہے کہ امریکہ کے مقابلے میں چین کا اے آئی کہیں آگے نہ نکل جائے۔ اسی لیے ٹرمپ نے پوسٹ میں کہا ہے کہ جو جیتے گا وہی جیتے گا اور چین سے اے آئی میں امریکہ کافی آگے ہے۔
دوسری جانب بل گیٹس کی وارننگ کے ساتھ ہی گیٹس فاؤنڈیشن نے اے آئی کے حوالے سے بڑا اعلان کیا ہے۔ فاؤنڈیشن آئندہ 2 سال میں کم از کم ایک ارب ڈالر یعنی تقریباً 8000 کروڑ روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس پیسے کا استعمال صحت، تعلیم اور زراعت جیسے شعبوں میں اے آئی کی رسائی بڑھانے کے لیے کیا جائے گا۔ فاؤنڈیشن کا مقصد یہ ہے کہ اے آئی کا فائدہ صرف امیر ممالک اور بڑی کمپنیوں تک محدود نہ رہے۔ بل گیٹس کا کہنا ہے کہ اے آئی کو صرف خطرے کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے۔ صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے تو دنیا کے غریب لوگوں کے لیے بہت بڑا فائدہ لا سکتا ہے۔
