اے آئی کی بڑھتی طاقت سے انسانیت کے مستقبل کو خطرہ؟ ٹیک مارکیٹ میں بھونچال، امریکہ اور چین آمنے سامنے
اے آئی کی تیز رفتار ترقی پر حفاظتی خدشات کے بعد عالمی ٹیک کمپنیوں کے حصص میں بڑی گراوٹ آئی۔ امریکہ نے چین سے آگے رہنے پر زور دیا، جبکہ بیجنگ نے تصادم اور بدنیتی پر مبنی مسابقت سے خبردار کیا

مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی، اس کے ممکنہ خطرات اور اس ٹیکنالوجی میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی مسابقت نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے۔ اے آئی کے شعبے سے وابستہ اہم شخصیات کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کی ترقی کی رفتار کم کرنے اور زیادہ حفاظتی اقدامات کی اپیل کے بعد پیر کو دنیا کے کئی بازاروں میں ٹیک کمپنیوں کے حصص میں نمایاں گراوٹ دیکھی گئی۔
جنوبی کوریا میں چِپ ساز کمپنی ایس کے ہائنکس کے حصص 6.4 فیصد جبکہ سام سنگ الیکٹرانکس کے حصص 4.1 فیصد گر گئے۔ اوپن اے آئی میں بڑا سرمایہ کاری رکھنے والی جاپانی کمپنی سافٹ بینک کے حصص میں 10 فیصد سے زیادہ کی کمی ہوئی۔
یورپی بازاروں میں بھی یہی رجحان نظر آیا۔ جرمنی کی سیمی کنڈکٹر کمپنی انفینین کے حصص 7.6 فیصد جبکہ نیدرلینڈز کی چِپ ساز کمپنی اے ایس ایم ایل کے حصص 5.2 فیصد گر گئے۔ امریکہ میں ہیولٹ پیکارڈ کے حصص میں 10 فیصد، انٹیل اور سانڈسک میں 7 فیصد، کوالکوم اور مائیکرون میں 6 فیصد جبکہ اوریکل میں 5 فیصد کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ اے آئی چِپ بنانے والی کمپنی اینویڈیا کے حصص بھی 3 فیصد نیچے آئے۔ ٹیک کمپنیوں پر مشتمل نیسڈیک انڈیکس ابتدائی کاروبار میں 1.2 فیصد تک گر گیا۔
سرمایہ کاری کے ادارے اے جے بیل کے سرمایہ کاری ڈائریکٹر رس ماؤلڈ کے مطابق اے آئی سے متعلق حصص گزشتہ کچھ عرصے سے مسلسل بڑھ رہے تھے، تاہم اب سرمایہ کاروں میں یہ تشویش بڑھ رہی ہے کہ یہ ٹیکنالوجی غیر معمولی رفتار سے آگے بڑھ رہی ہے اور اس کے لیے زیادہ مضبوط حفاظتی اقدامات اور کنٹرول درکار ہیں۔ بعض سرمایہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ اے آئی کمپنیوں کی قدر و قیمت حد سے زیادہ بڑھ چکی ہے، جس سے 1990 کی دہائی کے آخر کے ڈاٹ کام دور جیسی صورت حال پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اوپن اے آئی کے شریک بانی اور چیف ایگزیکٹو سیم آلٹمین بھی اے آئی کی ترقی میں احتیاط پر زور دینے والوں میں شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اے آئی سیفٹی کمپنی اینتھروپک کی تجویز پر عمل کرتے ہوئے ایسے آزاد جائزہ کار مقرر کریں گے جنہیں کمپنی کے ملازمین جیسی رسائی حاصل ہوگی۔ آلٹمین نے یہ خدشہ بھی ظاہر کیا کہ انسانیت اے آئی کے ہاتھوں اپنے مستقبل پر کنٹرول کھو سکتی ہے یا طاقت کسی ایک مقام پر حد سے زیادہ مرتکز ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اے آئی پر جاری بحث کے دوران چین کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو اس ٹیکنالوجی کی ترقی میں چین سے آگے رہنا چاہیے۔ انہوں نے اے آئی اور ڈیٹا سینٹرز کے خلاف مبینہ ’’سازش‘‘ کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ اس صورت حال سے خوش ہونے والا واحد ملک چین ہے۔
چین نے اے آئی گورننس سے متعلق خدشات اور سخت مسابقت کے بیانیے پر تنقید کی ہے۔ چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وو تاؤ نے کہا کہ خطرات، تصادم اور بدنیتی پر مبنی مسابقت کی باتیں عالمی اے آئی گورننس کے عمل میں رکاوٹ ڈالتی ہیں اور کسی کے مفاد میں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام فریقوں کو اے آئی کی ترقی کے لیے کھلے، جامع، سب کے لیے فائدہ مند اور انسانی فلاح پر مبنی تعاون کرنا چاہیے۔ چین کے اس ردعمل نے واضح کر دیا ہے کہ اے آئی کے مستقبل، اس کی رفتار اور اس کے انتظام کے معاملے میں دنیا کی دو بڑی طاقتوں کے درمیان اختلافات بدستور گہرے ہیں۔
