
تصویر اے آئی
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال تیزی سے بدل رہی ہے اور خلیجی خطہ ایک نئی اور خطرناک کشیدگی کی لپیٹ میں آ گیا ہے۔ ایران کی جانب سے متحدہ عرب امارات، قطر اور سعودی عرب سمیت مختلف مقامات کو ڈرون اور میزائل حملوں کا نشانہ بنانے کے دعووں نے علاقائی سلامتی کے ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ مختلف ممالک کی حکومتوں اور وزارتی بیانات کے مطابق یہ حملے کئی گھنٹوں تک جاری رہے اور ان کے اثرات دور رس ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
دبئی میں ایک ایسی عمارت کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع ہے جہاں امریکی فوجی افسران کی موجودگی بتائی جا رہی تھی۔ ایرانی میڈیا کے مطابق حملے میں شاہد-136 ڈرون استعمال کیا گیا۔ واقعے کے بعد سکیورٹی اداروں نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور آمد و رفت محدود کر دی گئی۔ تاحال مکمل تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
اس سے قبل سعودی عرب میں واقع امریکی سفارت خانے کو بھی ڈرون سے نشانہ بنانے کی خبر سامنے آئی تھی۔ بعض اطلاعات میں عمارت میں آگ لگنے کا ذکر ہے، تاہم رپورٹس کے مطابق اس وقت سفارت خانہ خالی تھا۔
Published: undefined
قطر کے دفتر خارجہ کے مطابق ایران نے ملک کی جانب 92 بیلسٹک میزائل اور 17 ڈرون داغے۔ ابتدائی مرحلے میں 83 میزائل اور 12 ڈرون کی نشاندہی کی گئی۔ دو میزائل العدید ایئرپورٹ کے قریب گرے جبکہ ایک ڈرون نے ابتدائی وارننگ ریڈار اسٹیشن کو نشانہ بنایا۔
قطری حکام کے مطابق ان حملوں میں 16 افراد زخمی ہوئے جن میں ایک کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔ دوسری جانب قطر کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ بیشتر میزائلوں اور ڈرونز کو فضا ہی میں تباہ کر دیا گیا۔ وزارت کے مطابق تینوں کروز میزائل، 101 میں سے 98 بیلسٹک میزائل اور درجنوں ڈرون ناکارہ بنا دیے گئے، جبکہ دو SU-24 طیاروں کو بھی روکنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
Published: undefined
قطر نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کا حوالہ دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دوحہ نے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کو خط ارسال کرتے ہوئے ایران کی کارروائیوں کی مذمت کی ہے اور عالمی برادری سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ خط میں کویت، متحدہ عرب امارات، اردن، بحرین، سعودی عرب اور عمان کے خلاف مبینہ جارحیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
سعودی وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی کے مطابق ریاض اور الخرج شہروں کے قریب آٹھ ڈرونز کو فضا میں ہی تباہ کر دیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ دفاعی نظام مکمل طور پر فعال ہے اور خطرے کو وقتی طور پر غیر مؤثر بنا دیا گیا ہے۔
Published: undefined
سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس میں اسرائیل میں امریکی سفارت خانے کے احاطے میں آگ لگنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ ویڈیو میں شعلے دکھائی دیتے ہیں، تاہم سرکاری سطح پر اس واقعے کی مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
دبئی، قطر اور سعودی عرب میں حملوں کی اس لہر نے خلیج میں سلامتی کی صورتحال کو مزید نازک بنا دیا ہے۔ اگرچہ کئی حملوں کو ناکام بنانے کے دعوے کیے جا رہے ہیں، لیکن شہریوں کے زخمی ہونے اور حساس تنصیبات کو نشانہ بنائے جانے سے تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
معاملہ اقوامِ متحدہ تک پہنچنے کے بعد یہ بحران محض عسکری تصادم نہیں رہا بلکہ ایک وسیع سفارتی آزمائش میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں عالمی ردعمل اور ممکنہ جوابی اقدامات اس کشیدہ صورتحال کی سمت کا تعین کریں گے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined