عالمی خبریں

ایران نے امریکی ’اقتصادی جنگ‘ کو ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو خط

ایران نے 27 ایئرلائنز اور شہری ہوا بازی سے متعلق اداروں پر امریکی پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیا اور اقوام متحدہ و سلامتی کونسل سے پابندیوں کے خلاف کارروائی کی اپیل کی

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا

 

تہران: ایران نے اپنے خلاف جاری امریکی ’اقتصادی جنگ‘ کو ’اقتصادی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے 27 ایئرلائنز اور شہری ہوا بازی سے متعلق اداروں پر عائد امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کی ہے۔ ایران نے ان پابندیوں کے خلاف اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹریش اور سلامتی کونسل کے موجودہ صدر کو خط لکھ کر عالمی برادری سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر غلام حسین دارزی نے اپنے خط میں کہا کہ امریکہ ایران کے خلاف اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہنے کے بعد جارحیت کے متبادل طریقے کے طور پر اقتصادی دباؤ کا سہارا لے رہا ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ کے ذریعے عام شہریوں کے لیے ضروری شعبوں کو منظم انداز میں نشانہ بنا رہا ہے اور ایرانی عوام کو اہم اشیا اور خدمات سے محروم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

ایرانی سفیر نے کہا کہ شہری ہوا بازی سے متعلق حالیہ امریکی پابندیوں کے باعث مسافر طیاروں کے محفوظ آپریشن کے لیے ضروری اسپیئر پارٹس، آلات، دیکھ بھال، مرمت، معائنہ اور تکنیکی خدمات تک رسائی متاثر ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پابندیوں سے نہ صرف مسافروں بلکہ ہوا بازی کے شعبے سے وابستہ ملازمین کی سلامتی کے لیے بھی غیر ضروری خطرات پیدا ہوتے ہیں۔

ایرانی مؤقف کے مطابق امریکی پابندیوں سے لاکھوں عام شہریوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ایران نے خاص طور پر شہری ہوا بازی کے شعبے کو پابندیوں سے مستثنیٰ رکھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ طیاروں کی محفوظ پرواز کے لیے ضروری سامان اور خدمات کی فراہمی میں رکاوٹ انسانی جانوں کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔

ایرانی سفیر نے 3 اکتوبر 2018 کو بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کا بھی حوالہ دیا۔ ان کے مطابق عدالت نے واضح کیا تھا کہ امریکی پابندیوں سے شہری ہوا بازی کی سلامتی اور اس پر انحصار کرنے والے افراد کی زندگی متاثر ہو سکتی ہے۔ عدالت نے امریکہ سے ایران کو شہری ہوا بازی کی سلامتی کے لیے ضروری سامان اور خدمات کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کو کہا تھا۔

دارزی نے الزام عائد کیا کہ ایران کے عام شہریوں پر مشکلات اور قلت مسلط کر کے سیاسی دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی اور مالیاتی اقدامات کا مسلسل استعمال ’اقتصادی دہشت گردی‘، اجتماعی سزا اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہے۔ انہوں نے اسے اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی بھی قرار دیا۔

ایرانی نمائندے نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے اپیل کی کہ تمام رکن ممالک کو ایسے یکطرفہ امریکی پابندیوں کو تسلیم نہ کرنے اور ان پر عمل درآمد سے گریز کرنے کی ہدایت کی جائے، جو ایران کے مطابق بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر سے متصادم ہیں۔ انہوں نے بالخصوص ان پابندیوں کی جانب توجہ دلائی جن سے عام شہریوں کو بڑے پیمانے پر انسانی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔