تحریک آزادی کا گم نام سپاہی: شہید، وی۔ عبد القادر...شاہد صدیقی علیگ

جانباز عبدالقادر اور تین ساتھی رمضان کے مقدس مہینے میں 10 ستمبر 1943ء بروز جمعہ رات کے بارہ بجے مدراس جیل میں وطن کی حرمت و بقا کی خاطر ہنستے ہنستے تختہ دار پر چڑھ گئے۔

<div class="paragraphs"><p>عبد القادر کی یاد میں جاری ٹکٹ</p></div>
i

ہندوستان کی تحریک آزادی میں جن مسلح پسند نوجوان انقلابیوں نے اپنی جان پر کھیلتے ہوئے برطانوی نو آبادیاتی نظام کو دن میں تارے دکھائے تھے، ان کی ایک لمبی فہرست ہے، مگر شومئ قسمت بعض جگر گوشوں کو تاریخی صفحہ قرطاس پر وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ اصل حق دار تھے۔ ایسے ہی مخلص جانبازوں میں شہید، وی۔ عبد القادر بھی شامل ہے جنہیں برطانوی ملکہ کے خلاف جنگ چھیڑنے کی سازش کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی تھی۔

وی۔ عبد القادر کی ولادت 25 مئی 1917ء کو موضع وکّم ضلع تریوندرم ریاست کیرالہ ہوئی۔ ان کے والد کانام ایم واوا کنزو اور والدہ کا نام ام سلمہ تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مقامی پرائمری اسکول میں حاصل کی اور ثانوی تعلیم سری نارائن ولاسا ہائی اسکول سے مکمل کی۔ عبدالقادر نے عنفوان شباب میں قدم رکھتے ہی انگریزوں کے خلاف ہونے والے احتجاجی پروگراموں میں شرکت کرنی شروع کردی تھی۔ مہاتما گاندھی کے کیرالہ دورہ کے دوران جب ان کی ریل کڈاکاوور ریلوے اسٹیشن پر رکی، تو وہاں موجود ہجوم میں سے نکل کر عبدالقادر ہی نے انہیں پھولوں کا ہار پہنایا تھا۔ 21 سالہ عبدالقادر اپنے والد کے کہنے پر 1938 میں ذریعہ معاش کی تلاش میں ملیشیا چلے گئے اور پبلک ورکس ڈیپارٹمنٹ کے انجینئرنگ شعبے میں ملازم ہو گئے۔ جہاں غدر پارٹی کے بابا ہری سنگھ عرف بابا عثمان خاں مادر ہند کو برطانوی سامراجیہ سے نجات دلانے کی مہم میں متحرک تھے۔ عبد القادر بھی اپنے انقلابی طبعیت کے باعث انگریزی غلامی کا جوا اتار پھینکنے کے لیے ان کے رفیق بن گئے اور جلد ہی آزاد ہند لیگ کے ایک سرگرم رہنما کی حیثیت سے شناخت قائم کرلی۔

تحریک آزادی کا گم نام سپاہی: شہید، وی۔ عبد القادر...شاہد صدیقی علیگ

لیگ کے رضاکاروں کے لیے پینٹنگ (ملیشیا) میں جاسوسی مرکز ’انڈین سوراج انسٹی ٹیوٹ‘ میں ایک تربیتی پروگرام شروع کیا گیا۔ 15 فروری 1942ء کو سقوط سنگاپور کے بعد جاپانی حکام کے تعاون سے کوائر اسکواڈ کے پہلے دستے کے لیے جن 20 افراد کو منتخب کیا گیاتھا۔ ان میں عبد القادر انتہائی سخت جاں اور مضبوط اعصاب کے نوجوان تھے۔ ان جنگجوﺅں کو تربیت کے بعد پانچ پانچ انقلابیوں پر مشتمل دو دستوں کو تھائی لینڈ کے سمندری راستے سے جاپانی آبدوزوں اور ربڑ کے رافٹس کے ذریعے تنور مالپّورم (کیرالہ) اور دوارکا (کاٹھیاواڑ) کے ساحل پر اتارنے اور باقی افراد کو زمینی راستے سے ہندوستان میں داخل کرانے کی منصوبہ بندی کی گئی۔

لہٰذا 27 ستمبر 1942ء کی رات کو وی۔ عبد القادر اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ ’تنور مالپّورم‘ دو ربڑ کی کشتیوں کے ذریعے اترے، لیکن ملک کی سلامتی کے مدنظر چپے چپے پر انگریز ی جاسوس پھیلے ہوئے تھے۔ جنہوں نے ان کے ساحل پر اترتے ہی بروقت ان کے آمد کی خبر انگریز حکام کو پہنچا دی چنانچہ محمد عبدالقادر مع 19 افراد کو ہندوستان میں داخل ہوتے ہی حراست میں لے لیا گیا اور انہیں ’فورٹ سینٹ جارج قلعہ‘ میں منتقل کر دیا گیا۔ جہاں بازپرس کے نام پر تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا۔ ’گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے‘ کے مماثل کوائر دستہ کا ایک جنگجو غداری کر کے سرکاری گواہ بن گیا۔ جس کی وجہ سے پورے منصوبے کا راز فاش ہوگیا۔


انگریز حکام نے بلاری کے ڈسٹرکٹ جج ای۔ ای۔ میک کو فاسٹ ٹریک کورٹ کا خصوصی طور پر جج نامزد کیا۔ غیر منصفانہ طریقے سے مدراس سنٹرل جیل کے ا حاطہ میں مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی۔ جج نے یکم اپریل 1943ء کو وی۔ عبدالقادر، سریندر چندر بردھن، آنندن اور فوجہ سنگھ کو طے شدہ سزائے موت سنائی، دیگر پانچ کو مختلف سزائے دیں اورباقی افراد کو بری کر دیا گیا۔ پھانسی سے قبل عبدالقادر نے اپنے والد کو خط لکھا جس سے ان کی سخت کوشی، صبر وتحمل اور حب الوطنی آشکار ہوتی ہے۔

جانباز عبدالقادر اور تین ساتھی رمضان کے مقدس مہینے میں 10 ستمبر 1943ء بروز جمعہ رات کے بارہ بجے مدراس جیل میں وطن کی حرمت و بقا کی خاطر ہنستے ہنستے تختہ دار پر چڑھ گئے۔ چار دہائیاں گزرنے کے بعد حکومت ہند کی وزارت اطلاعات اور نشریات نے 25 مئی 1998ء میں عبد القادر کی یاد میں ایک ٹکٹ جاری کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔