مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے پڑپوتے مسرور احمد خاں کے انتقال پر آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کی تعزیت
مرحوم مسرور احمد اکثر کہتے رہتے تھے کہ تحریک آزادی میں تن من دھن سے حکیم اجمل خاں نے حصہ لیا، اس کے باوجود آزاد ہندوستان میں اس عظیم شخصیت کے ساتھ ناروا سلوک سمجھ سے باہر ہے۔

نئی دہلی: آل انڈیا یونانی طبی کانگریس دہلی کی جانب سے مسرور احمد خاں کے انتقال پر دریاگنج، نئی دہلی میں ایک تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا۔ مسرور احمد مرحوم خاندان شریفی کے حقیقی چشم و چراغ تھے جو رشتہ کے اعتبار سے مسیح الملک حکیم اجمل خاں کے پڑپوتے تھے۔ ان کی نظر حکیم اجمل خاں کے مشن پر تھی اور حکیم اجمل خاں کو ’بھارت رتن‘ نہ ملنے کا افسوس کرتے رہے۔ حکیم اجمل خاں کی وراثت کو مال غنیمت سمجھنے والوں سے اور ان کا صحیح استعمال نہ ہونے پر نیز ان کی ملکیت پر ناجائز قبضے کا بھی انہیں بہت رنج تھا۔
مسرور احمد اکثر کہتے رہتے تھے کہ تحریک آزادی میں تن من دھن سے حکیم اجمل خاں نے حصہ لیا، اس کے باوجود آزاد ہندوستان میں اس عظیم شخصیت کے ساتھ ناروا سلوک سمجھ سے باہر ہے۔ واضح ہو کہ ان کا انتقال 9 ستمبر 2026 کو دہلی کے ایک سرکاری اسپتال میں ہوا اور تدفین دہلی گیٹ قبرستان میں عمل میں آئی۔
اظہار تعزیت کرنے والوں میں مسیح الملک حکیم اجمل خاں فورم فار پیس اینڈ کمیونل ہارمی کے قومی صدر تیج لال بھارتی کے علاوہ ڈاکٹر سیّد احمد خاں، شیخ علیم الدین اسعدی، ڈاکٹر عشرت کفیل، ڈاکٹر شمس الآفاق صدیقی، ڈاکٹر شکیل احمد میرٹھی، ڈاکٹر غیاث الدین صدیقی، ڈاکٹر مفتی جاوید انور، ڈاکٹر خورشید عالم، ڈاکٹر شمس الدین آزاد، ایڈووکیٹ شاہ جبیں قاضی، اسرار احمد اُجینی، محمد اویس، وسیم صدیقی اور محمد عمران قنوجی وغیرہ شامل ہیں۔ دعائے مغفرت کے ساتھ نشست اختتام پذیر ہوئی۔
