عالمی خبریں

’دہشت گردی ترک کیے بغیر پاکستان سے سندھ طاس معاہدہ بحال نہیں ہوگا‘، اقوام متحدہ میں ہندوستان کا اعلان

ہندوستان نے اقوام متحدہ میں واضح کیا کہ پاکستان جب تک دہشت گردی سے مکمل دستبردار نہیں ہوتا، سندھ طاس معاہدہ معطل رہے گا۔ انسانی جانوں کے احترام کو اولین شرط قرار دیا گیا

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>

آئی اے این ایس

 

اقوام متحدہ میں ہندوستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ اس وقت تک معطل رہے گا جب تک پاکستان اپنے رویے میں بنیادی تبدیلی نہیں لاتا اور دہشت گردی سے مکمل طور پر دستبردار نہیں ہو جاتا۔ ہندوستان کے مستقل نمائندہ پی ہریش نے عالمی یوم آب کے موقع پر منعقدہ ایک پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ معاہدوں کی پاسداری کی بات کرنے سے پہلے انسانی جانوں کے احترام کو یقینی بنانا ضروری ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ ہندوستان ہمیشہ ایک ذمہ دار بالائی دھارے کا ملک رہا ہے، لیکن ذمہ داری یک طرفہ نہیں ہو سکتی۔ ان کے مطابق پاکستان کو اپنی ریاستی پالیسی کے طور پر دہشت گردی کے استعمال کو مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا۔ پی ہریش نے زور دے کر کہا کہ پاکستان خود کو متاثرہ فریق کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

Published: undefined

انہوں نے یاد دلایا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں خیر سگالی اور دوستی کے جذبے کے تحت طے پایا تھا، لیکن پاکستان نے اس جذبے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ہندوستان کے خلاف جنگیں مسلط کیں اور ہزاروں دہشت گردانہ حملوں کی پشت پناہی کی۔ ان کے مطابق دسیوں ہزار بے گناہ ہندوستانی ان حملوں کا شکار ہوئے ہیں۔

پی ہریش نے کہا کہ گزشتہ برس پہلگام میں مذہبی بنیاد پر کیے گئے دہشت گردانہ حملے کے بعد ہندوستان نے اس معاہدے کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کی برداشت اور فراخ دلی کے باوجود پاکستان کے رویے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں آئی، جس کے بعد یہ قدم اٹھانا ناگزیر ہو گیا۔

Published: undefined

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ پینسٹھ برسوں میں تکنیکی، آبادیاتی اور ماحولیاتی سطح پر بڑے پیمانے پر تبدیلیاں آئی ہیں، جن کے پیش نظر معاہدے میں ترمیم ضروری ہے، لیکن پاکستان اس پر بات چیت سے مسلسل انکار کرتا رہا ہے۔

اپنے خطاب میں انہوں نے یہ بھی کہا کہ محفوظ پانی اور صفائی تک رسائی کو یقینی بنانا ہندوستان کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جل جیون مشن کے تحت دیہی علاقوں میں گھروں تک پائپ کے ذریعے پینے کا پانی پہنچانے کا ایک بڑا پروگرام چلایا جا رہا ہے، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ اس مشن میں مقامی سطح پر عوامی شمولیت کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جہاں گاؤں کی سطح پر قائم کمیٹیاں پانی کے نظام کی منصوبہ بندی اور دیکھ بھال میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ آخر میں انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دینا، خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا، وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined