ایٹمی تخفیفِ اسلحہ ہی محفوظ مستقبل کی امید
جاپان کے ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہونے والے ایٹمی حملوں کی برسی ایٹمی تباہی کے تلخ اسباق یاد دلاتی ہے۔ عالمی امن، انسانی بقا اور پائیدار ترقی کے لیے تخفیفِ اسلحہ، سفارت کاری اور اعتماد ناگزیر ہیں

ہیروشیما اور ناگاساکی پر ہونے والے ایٹمی حملوں کی 81ویں برسی کے موقع پر جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی عالمی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کی سربراہ، ازومی ناکامیتسو نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ جغرافیائی سیاسی تناؤ اور بڑھتے ہوئے فوجی اخراجات عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پائیدار ترقی اور انسانی بقا کا انحصار جوہری تخفیف اسلحہ اور باہمی تعاون پر ہے۔ خوف کے بجائے اعتماد اور سفارت کاری ہی وہ واحد راستہ ہے جو مستقبل کو ایٹمی تباہی سے محفوظ رکھ سکتا ہے، جبکہ نئی نسل کو ان تلخ تاریخی اسباق کو یاد رکھتے ہوئے امن کی جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا۔ اس ضمن میں، موبائل عجائب گھر ایٹمی حملوں میں بچ جانے والے افراد کی داستانیں دنیا تک پہنچا رہے ہیں۔
ایٹم بم حملوں کے 81 برس
آج سے 81 سال قبل ہیروشیما پر ایٹم بم کے حملے نے انسانیت کو ایٹمی جنگ کی اس عبرت ناک تباہی سے روشناس کرایا تھا جس کا تصور بھی محال تھا۔ پلک جھپکتے ہی ایک شہر راکھ کے ڈھیر میں بدل گیا، لیکن آج کا ہیروشیما محض ایک المیے کی داستان نہیں بلکہ انسانی عزم اور بحالی کی ایک ایسی روشن مثال ہے جو دنیا کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ موجودہ پرآشوب دور میں، جہاں عالمی تناؤ اپنی انتہا پر ہے، ہیروشیما کے اسباق پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہم نے تاریخ کے اس سیاہ باب سے واقعی کچھ سیکھا ہے، یا ہم ایک بار پھر اسی تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں؟
ہیروشیما ہمت اور بحالی کی مثال
اقوامِ متحدہ کی تخفیفِ اسلحہ کی سربراہ، ازومی ناکامیتسو کے مطابق ہیروشیما کی کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بدترین المیوں کے بعد بھی نئی زندگی اور تعمیرِ نو ممکن ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہیروشیما کی بقا محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک ارادی انتخاب کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا ہے: "ہیروشیما ہمت، تجدید اور امید کی ایک متاثر کن مثال کے طور پر کھڑا ہے... یہاں کے لوگ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ تاریک ترین لمحات کے بعد بھی، ہم ایک مختلف مستقبل کا انتخاب کر سکتے ہیں اور اسے تعمیر کر سکتے ہیں۔"
یہ تجزیہ ہمیں بتاتا ہے کہ عالمی امن کے قیام کے لیے المیے کو محض ’مظلومیت‘ کے بجائے ’امید‘ کے زاویے سے دیکھنا کتنا ضروری ہے۔ یہ سوچ ہمیں ایک ایسے مستقبل کی بنیاد رکھنے کے قابل بناتی ہے جہاں تباہی حتمی انجام نہیں بلکہ ایک نئے آغاز کا نقطہ بن سکتی ہے۔
عالمی امن کی تنزلی اور لمحہ فکریہ
تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ وہ ادارہ جو دنیا کو جنگوں سے نجات دلانے کے لیے قائم کیا گیا تھا، آج اپنی ہی آنکھوں کے سامنے دہائیوں کی محنت کو رائیگاں جاتے دیکھ رہا ہے۔ ایٹمی ہتھیاروں میں کمی کا جو رجحان کئی برسوں سے جاری تھا، وہ اب خطرناک حد تک الٹ چکا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق، 2025 میں عالمی فوجی اخراجات بڑھ کر 2.9 کھرب ڈالر کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ تشویشناک بات یہ ہے کہ طاقت کے حصول اور خوف پھیلانے کے لیے 'جنگجوانہ بیان بازی اور ایٹمی دھمکیوں' کا سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔ دہائیوں پر محیط سفارتی پیش رفت اب نقش بر آب ثابت ہو رہی ہے، جو عالمی قیادت کے لیے ایک بڑا لمحہ فکریہ ہے۔
ایٹمی تحفظ کا منطقی مغالطہ
عام طور پر یہ دلیل دی جاتی ہے کہ ایٹمی ہتھیار قومی سلامتی کی حتمی ضمانت ہیں، لیکن یہ ایک خطرناک فریب ہے۔ ماہرین اس 'زیرو سم لاجک' کو سختی سے مسترد کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حقیقت میں ایٹمی ہتھیار تحفظ فراہم کرنے کے بجائے عدم تحفظ میں اضافہ کرتے ہیں۔ حقیقی امن خوف کے سائے میں نہیں بلکہ باہمی اعتماد، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری سے حاصل ہو سکتا ہے۔ ایٹمی طاقتوں کو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سلامتی کا راستہ ہتھیاروں کے انبار میں نہیں بلکہ ان کے مکمل خاتمے میں چھپا ہے۔
تاریخ کو نئی نسل تک پہنچانے کی مہم
جہاں سفارت کار پالیسیوں پر بحث کر رہے ہیں، وہیں نوجوان نسل اس مہم کا اخلاقی بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔ سوزوکا ناکامورا، جن کی دادی خود 'ہباکوشا' (ایٹمی حملے میں بچ جانے والی) تھیں، نے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔ انہوں نے ایک "موبائل ایٹم بم میوزیم" کی شروعات کی ہے تاکہ ہیروشیما اور ناگاساکی کی کہانیاں بند کمروں سے نکل کر عام لوگوں تک پہنچ سکیں۔
سوزوکا کی یہ مہم اس لیے بھی اہم ہے کہ 2024 میں ہباکوشا کی تنظیم 'نیہون ہیڈانکیو' کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا تھا، جس نے اس تحریک میں نئی جان پھونک دی ہے۔ سوزوکا، جو پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کی نوجوان سفیر ہیں، کا ماننا ہے کہ تاریخ کو صرف کتابوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے عوام کے شعور کا حصہ بننا چاہیے۔
تخفیفِ اسلحہ پائیدار ترقی کے لیے لازمی
ایٹمی ہتھیاروں کا خاتمہ محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ہمارے سیارے کی بقا اور پائیدار ترقی سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔ اگرچہ پائیدار ترقی کے اہداف میں اس کا ذکر الگ سے نہیں ملتا، لیکن یہ ایک ایسا بنیادی مسئلہ ہے جس پر تمام انسانی ترقی کا دارومدار ہے۔ سوزوکا ناکامورا کے الفاظ اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں: " ایٹم بموں کی موجودگی میں دنیا کا مستقبل پائیدار نہیں ہو سکتا۔"سوزوکا ناکامورا یہ بیان ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم اس وقت تک ایک محفوظ اور خوشحال دنیا کا تصور نہیں کر سکتے جب تک انسانیت کے سر پر ایٹمی تباہی کی تلوار لٹک رہی ہو۔
ہیروشیما کے بچ جانے والے بزرگوں (ہباکوشا) سے ہمیں جو سب سے بڑا سبق ملتا ہے، وہ ہے 'صبر' اور مکالمے پر غیر متزلزل یقین۔ امن کا قیام کوئی فوری عمل نہیں بلکہ ایک صبر آزما جدوجہد ہے ۔ آج جب دنیا جنگوں اور تباہی کے آلات پر کھربوں ڈالر لٹا رہی ہے، ایسے میں یہ سوال اہم ہو جاتا ہے کہ کیا ہم تقسیم اور تصادم کے بجائے مکالمے کا ایک چھوٹا سا قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں؟ ہیروشیما و ناگاساکی کی تاریخ ہمیں مکالمے کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
