
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو/ فائل تصویر آئی اے این ایس
اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی جاری ہے۔ رفتہ رفتہ دونوں طرف سے قیدیوں کا تبادلہ بھی ہو رہا ہے۔ لیکن اتوار کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ایک ایسا بیان دے دیا ہے جس سے حالات سدھرنے کے بجائے مزید کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ نیتن یاہو نے وارننگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے سبھی قیدیوں کو رہا نہیں کیا تو وہ غزہ میں 'جہنم کا دروازہ' کھول دیں گے۔ یروشلم میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد انہوں نے یہ بیان دیا ہے۔
Published: undefined
نیتن یاہو نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ غزہ کو لے کر اسرائیل-امریکہ کی مشترکہ حکمت عملی ہے، جسے ہم عوام کے ساتھ ساجھا نہیں کر سکتے۔ ہم یہ نہیں بتا سکتے کہ 'جہنم کا دروازہ' کب کھولیں جائیں گے لیکن اگر ہمارے سبھی لوگوں کو رہا نہیں کیا گیا تو وہ یہ دروازہ یقینی طور پر کھول دیں گے۔" اسرائیلی وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ وہ حماس کی فوجی طاقت اور غزہ میں اس کی ممکنہ حکومت کو نیست و نابود کردیں گے۔
اس کے ساتھ ہی اسرائیلی وزیر اعظم نے ہفتہ کو تین یرغمالیوں کی رہائی میں مدد کے لیے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ ہمارے ساتھ پوری طرح سے تعاون کر رہی ہے۔
Published: undefined
وہیں اتوار کو جنوبی غزہ پٹی میں اسرائیلی فضائی حملے میں تین فلسطینی پولیس افسروں کی موت ہو گئی۔ حماس نے اسے جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی قرار دیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ حملے میں کئی مسلح لوگوں کو نشانہ بنایا گیا تھا، جو پاس میں تعینات اسرائیلی فورسز کی طرف بڑھ رہے تھے۔ حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیل لگاتار جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے، وہیں اسرائیل کے سبھی قیدیوں کو ایک ساتھ چھوڑنا بھی جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔
واضح ہو کہ گزشتہ مہینے ہوئے جنگ بندی معاہدہ کے تحت حماس اسرائیل کے 33 یرغمالیوں کو رہا کرے گا اور اس کے بدلے اسرائیل کی طرف سے کئی فلسطینی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined