سپریم کورٹ میں مغربی بنگال کے ایس آئی آر کے خلاف ممتا بنرجی کی عرضی پر آج سماعت
سپریم کورٹ آج مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کے خصوصی نظرثانی عمل کے خلاف ممتا بنرجی کی عرضی پر سماعت کرے گا۔ عدالت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ کسی بھی حقیقی ووٹر کا حق متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا

نئی دہلی: سپریم کورٹ آج مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی اس عرضی پر سماعت کرے گا جس میں انہوں نے انتخابی فہرستوں کے خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کو چیلنج کیا ہے۔ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر جاری فہرست کے مطابق چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی میں قائم بنچ، جسٹس جائے مالیا باگچی اور جسٹس این وی انجاریا پر مشتمل ہوگی، جو اس معاملے کی سماعت کرے گی۔
اسی بنچ کے سامنے ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ ڈولا سین اور ڈیرک او برائن کی جانب سے دائر مماثل عرضیوں پر بھی غور کیا جائے گا۔ ممتا بنرجی نے اپنی درخواست میں بھارتی الیکشن کمیشن پر سیاسی جانبداری کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جس انداز میں ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کی جا رہی ہے، اس سے معاشرے کے حاشیے پر موجود طبقات کے لاکھوں ووٹروں کے نام حذف ہونے کا اندیشہ ہے۔
انہوں نے عدالت سے عبوری ہدایت جاری کرنے کی اپیل کی ہے کہ ایس آئی آر کے دوران کسی بھی ووٹر کا نام، خاص طور پر ان افراد کا جو مبینہ طور پر ’منطقی تضاد‘ کے زمرے میں رکھے گئے ہیں، فہرست سے نہ ہٹایا جائے۔ گزشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملے کو مزید سماعت کے لیے آج کے دن مقرر کیا تھا۔
سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس دیے تھے کہ مقامی بولیوں اور زبانوں کے فرق کی وجہ سے ناموں کے ہجے میں اختلاف پورے ملک میں عام بات ہے اور اسے حقیقی ووٹروں کو فہرست سے باہر کرنے کی بنیاد نہیں بنایا جا سکتا۔
ممتا بنرجی نے عدالت کو بتایا کہ شادی کے بعد نام تبدیل کرنے والی خواتین اور رہائش تبدیل کرنے والے افراد اس عمل سے غیر مساوی طور پر متاثر ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اسمبلی انتخابات سے قبل مغربی بنگال کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ آسام جیسے شمال مشرقی ریاستوں میں اسی نوعیت کی نظرثانی نہیں کی جا رہی۔
ان دلائل کے جواب میں عدالت نے یقین دہانی کرائی کہ وہ ایک عملی حل تلاش کرے گی اور کسی بھی حقیقی ووٹر کا حق رائے دہی متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔