عالمی خبریں

’ٹیرف اب صرف نمبروں کا کھیل بن کر رہ گیا، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا‘، ڈونلڈ ٹرمپ کے 245 فیصد ٹیرف پر چین کا طنز

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’اگر امریکہ ٹیرف کے ساتھ نمبروں کا کھیل کھیلنا جاری رکھتا ہے تو چین اسے نظر انداز ہی کرے گا، کیونکہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔‘‘

امریکہ اور چین، تصویر آئی اے این ایس
امریکہ اور چین، تصویر آئی اے این ایس 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے چین پر 245 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ ٹیرف میں اس اضافے کے فیصلے پر طنز کستے ہوئے بیجنگ کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے ذریعہ چینی درآمدات پر عائد کردہ ٹیرف اب مدلل نہیں ہے، اس سے اب زیادہ فرق نہیں پڑتا ہے۔ چین اس تجارتی جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ ہم اس سے ڈرتے بھی نہیں ہیں۔ ایسے تجارتی جنگوں میں کوئی فاتح نہیں ہوتا ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے لیے گئے اس فیصلے سے واضح ہو گیا ہے کہ کیسے امریکہ دوسروں کو ڈرانے، دھمکانے اور مجبور کرنے کے لیے ٹیرف کا استعمال ایک ہتھیار کے طور پر کرتا ہے۔

Published: undefined

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’چین کی جانب سے یہ واضح کر دیا گیا ہے کہ امریکہ کی جانب سے اس کے اوپر عائد کیے گئے ٹیرف اب صرف نمبروں کے کھیل بن کر رہ چکے ہیں۔‘‘ انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ’’اگر امریکہ ٹیرف کے ساتھ نمبروں کا کھیل کھیلنا جاری رکھتا ہے تو چین اسے نظر انداز ہی کرے گا، کیونکہ اس سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا۔ لیکن اگر چین کے حقوق اور مفادات کو امریکہ نقصان پہنچاتا رہا تو چین پوری طاقت سے اس کی مزاحمت کرے گا اور اپنی بات پر قائم رہے گا۔‘‘

Published: undefined

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان سے جب ٹیرف شرح کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ ’’یہ آپ امریکہ سے ہی پوچھیے۔ یہ جنگ امریکہ کی طرف سے شروع کی گئی ہے، ہم صرف امریکہ کے حملوں کا جواب دے رہے ہیں۔ ہم جو بھی قدم اٹھا رہے ہیں وہ بہت ہی منطقی ہے، جب کہ امریکہ کی جانب سے کیے گئے اقدامات غیر منطقی ہیں۔‘‘

Published: undefined

قابل ذکر ہے کہ چین اور امریکہ کی لڑائی 2 اپریل کو امریکہ کی جانب سے جاری کی گئی ٹیرف لسٹ کے بعد سے ہی شروع ہو گئی تھی۔ اس لسٹ میں چین کے اوپر 34 فیصد کا ٹیرف عائد کیا گیا تھا، چین نے اس کے جواب میں 34 فیصد جوابی ٹیرف عائد کر دیا۔ چین کے اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے بقیہ تمام ممالک کو ٹیرف میں چھوٹ دے دی لیکن چین کے اوپر 104 فیصد کا ٹیرف عائد کر دیا۔ چین نے بھی جواب میں امریکہ کے اوپر گزشتہ ٹیرف میں 50 فیصد کا اضافہ کر کے اسے 84 فیصد کر دیا۔ 10 اپریل کو وہائٹ ہاؤس کی طرف سے کہا گیا کہ چین پر اب 145 فیصد ٹیرف ہے۔ چین یہاں پر بھی نہیں رکا اور اس نے 125 فیصد کا جوابی ٹیرف عائد کرتے ہوئے کہا کہ چین کسی کے آگے نہیں جھکے گا۔ اس کے بعد امریکی انتظامیہ نے 15 اپریل کو چین کے اوپر 245 فیصد ٹیرف عائد کر دیا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ چین اس کے جواب میں امریکہ پر کتنا ٹیرف عائد کرتا ہے۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined