آبنائے ہرمز کو کُھلوانا ڈونالڈ ٹرمپ کے بس کی بات نہیں، امریکی انٹیلی جنس رپورٹ میں بڑا انکشاف
رپورٹ کے مطابق ایران اس وقت کسی بھی حالت میں آبنائے ہرمز کھولنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے۔ یہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے تہران امریکہ اور صدر ٹرمپ پر سب سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔

امریکہ ایران جنگ میں اگر کوئی ایک نقطہ سب سے اہم اور خطرناک محاذ کے طور پر سامنے آیا ہے تو وہ آبنائے ہرمز ہے۔ یہ صرف سمندری راستہ نہیں ہے بلکہ پوری دنیا کو توانائی سپلائی کرنے والی لائف لائن ہے لیکن اب یہی راستہ خطرناک بن گیا ہے۔ 28 فروری کو ایران پر کئے گئے امریکہ اوراسرائیل کے یکطرفہ حملے کی جوابی کارروائی کے طور پرایران نے آبنائے ہرمز کے بیشترحصے پراپنی سیکورٹی سخت کردی ہے اور کوئی بھی جہازایران کی اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں گزرسکتا۔ اس صورتحال نے پوری دنیا میں توانائی کا بحران پیدا کردیا ہے جس کی وجہ سے متاثرہ ممالک نے آبنائے ہرمز کھلوانے کے لیے امریکہ پر دباؤ بڑھا دیا ہے۔
حالانکہ امریکی انٹیلی جنس کی حالیہ رپورٹ نے اس بحران کو مزید گہرا کردیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اس وقت کسی بھی حالت میں آبنائے ہرمز کھولنے کے موڈ میں نہیں ہے۔ اس کی وجہ صاف ہے۔ یہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے تہران امریکہ اور صدر ٹرمپ پر سب سے زیادہ دباؤ ڈال سکتا ہے۔
واضح رہے کہ دنیا کی تیل اور گیس سپلائی کا تقریباً 20 فیصد اسی راستے سے گزرتا ہے۔ اس لیے اگر یہ زیادہ دیر تک بند رہے گا تو عالمی منڈی پر اس کا براہ راست اور سنگین اثر پڑے گا۔ یہی وجہ ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو اسٹریٹجک ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ حالانکہ ایران نے دوست ممالک کے لیے اس راستے سے آسان آمدو رفت کی اجازت دی ہے مگر امریکہ، اسرائیل اور ایران مخالف ممالک کے جہازوں کے گزرنے پر پابندی لگا رکھی ہے۔
’آج تک‘ کی نیوز کے مطابق صدر ٹرمپ مسلسل دعویٰ کرتے رہے ہیں کہ اگر امریکہ چاہے تو آبنائے ہرمز کو آسانی سے کھلوا سکتا ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا ہے کہ اگر ہمیں ’تھوڑا اور وقت ملا تو ہم اسے کھول دیں گے‘ لیکن زمینی حقیقت بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ کام جتنا نظر تا ہے، اس سے کہیں زیادہ زیادہ مشکل ہے۔ آبنائے ہرمز کا جغرافیائی محل وقوع اسے انتہائی کمزور بناتا ہے۔ یہ سمندری راستہ اپنے سب سے تنگ حصے میں صرف 33 کلومیٹر چوڑا ہے، جب کہ بحری جہازوں کے لیے گزرنے کا راستہ صرف 3 کلومیٹر ہے۔ اس سے وہاں سے گزرنے والے بحری جہاز انتہائی آسان نشانہ بن سکتے ہیں۔
ان حالات میں ’آج تک‘ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آرجی سی) نے آبنائے ہرمز کو اپنی طاقت میں بدل دیا ہے۔ ڈرونز، میزائلوں اور سمندری بارودی سرنگوں کے ذریعے آئی آرجی سی نے اس علاقے پراس قدراپنا پہرہ سخت کردیا ہے کہ اب کئی تجارتی جہاز اس راستے سے گزرنے سے بچ رہے ہیں۔ خفیہ اور بغیر اجازت گزرنے والوں کچھ جہازوں کو یہاں نشانہ بھی بنایا گیا ہے۔
’روئٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق ماہرین کا خیال ہے کہ اگر امریکہ نے فوجی طاقت کے ذریعے اس راستے کو کھولنے کی کوشش کی تو جنگ مزید طویل اور خطرناک ہو سکتی ہے۔ مزید برآں سی آئی اے کے سابق ڈائریکٹر بل برنز نے خبردار کیا ہے کہ ایران اتنی آسانی سے یہ اختیار نہیں چھوڑے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ تہران آبنائے ہرمز کو مستقبل کے کسی بھی امن معاہدے میں اپنے لیے سلامتی کی ضمانتیں اور اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔ واضح طور پر آبنائے ہرمز اب صرف ایک سمندری راستہ نہیں رہا بلکہ عالمی سیاست کا ایک بڑا ’چوک پوائنٹ‘ بن چکا ہے۔ امریکہ کے لیے اسے کھولنا اب صرف فوجی چیلنج ہی نہیں بلکہ ایک سفارتی اور اسٹریٹجک امتحان بن گیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔