آبنائے ہرمز پر 60 ممالک کا اجلاس، وکرم مسری نے کہا- ’ہندوستان وہ واحد ملک، جس نے یہاں اپنے ملاح کھوئے‘
ہندوستان نے عالمی اجلاس میں آبنائے ہرمز کھولنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ نہ صرف توانائی بلکہ سمندری سلامتی کا مسئلہ ہے، جہاں ہندوستانی ملاحوں کی جانیں بھی جا چکی ہیں

نئی دہلی: ہندوستان نے آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھولنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی توانائی سپلائی اور سمندری سلامتی کے لیے نہایت اہم راستہ ہے، جو مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے بعد ایران کے کنٹرول میں ہے۔ برطانیہ کی میزبانی میں منعقد ہونے والے ایک اہم کثیر ملکی اجلاس میں، جس میں 60 سے زائد ممالک نے شرکت کی، ہندوستان نے واضح کیا کہ اس حساس آبی گزرگاہ کی بندش نہ صرف عالمی تجارت بلکہ انسانی جانوں کے لیے بھی خطرہ بن چکی ہے۔
ہندوستانی وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے اجلاس میں کہا کہ ہندوستان وہ واحد ملک ہے جس نے اس خطے میں اپنے ملاحوں کو کھویا ہے، اس لیے اس مسئلے کی سنگینی کو وہ عملی طور پر محسوس کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ کشیدگی کے خاتمے اور راستے کی بحالی کے لیے سفارتی کوششیں ہی سب سے محفوظ اور مؤثر راستہ ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق، آبنائے ہرمز کی صورتحال نے ہندوستان کی توانائی سلامتی پر براہ راست اثر ڈالا ہے، کیونکہ یہ راستہ عالمی تیل سپلائی کی ایک بڑی شاہراہ ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی غیر یقینی صورتحال کے باعث نہ صرف تیل کی ترسیل متاثر ہوئی ہے بلکہ بحری جہازوں کی نقل و حرکت بھی خطرے میں پڑ گئی ہے۔
حکام کے مطابق، اب تک کم از کم تین ہندوستانی ملاح غیر ملکی پرچم بردار جہازوں پر اس علاقے میں ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ایک زخمی ہوا ہے۔ کئی جہاز اب بھی اس علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں، جس سے عالمی تجارتی سرگرمیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
حکومت نے یہ بھی بتایا کہ خلیجی ممالک میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی شہری مقیم ہیں اور موجودہ حالات کے باوجود وہ محفوظ ہیں۔ وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ تمام سفارت خانے اپنے شہریوں سے مسلسل رابطے میں ہیں۔ اب تک اس تنازع میں آٹھ ہندوستانی شہریوں کی موت کی تصدیق ہو چکی ہے جبکہ ایک شخص لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔
مزید برآں، ہندوستان نے ایران سے اپنے 204 شہریوں کو آذربائیجان کے راستے محفوظ نکالنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ اس عمل میں آذربائیجان کے تعاون کو سراہتے ہوئے وزارت خارجہ نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید شہریوں کی محفوظ واپسی کے لیے اقدامات جاری رہیں گے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔