مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے دوران عراق میں پھر فضائی حملہ، موصل اورعزیزیہ میں فوجی اڈوں کو بنایا گیا نشانہ، 3 ہلاک

اس حملے میں پی ایم ایف کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ پی ایم ایف عراق کے حکومتی سیکورٹی سسٹم کا حصہ ہے اوراس میں کئی ایسے گروپ شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران سے منسلک ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>عراق میں فضائی حملہ (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

عراق کا شہر موصل ایک بار پھرفضائی حملوں سے کانپ اُٹھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق آج یہاں ایک زوردار حملے میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) کے 34ویں بریگیڈ کے ہیڈ کوارٹر کو نشانہ بنایا گیا۔ اس حملے میں فی الحال کسی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ پی ایم ایف عراق کے حکومتی سیکورٹی سسٹم کا حصہ ہے اور اس میں کئی ایسے گروپ شامل ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایران سے منسلک ہیں۔

’الجزیرہ‘ کے مطابق یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب ایران کے ساتھ جنگ ​​کی وجہ سے خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ عراق پہلے ہی امریکی افواج اورایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے درمیان جوابی حملوں کا سامنا کر رہا ہے، جس سے صورتحال مزید خراب ہو رہی ہے۔ موصل میں ہونے والے اس تازہ حملے کو حالیہ بڑھتے ہوئے تنازع کا حصہ سمجھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔


ایک ہفتہ قبل ہی عراق میں سکیورٹی فورسز پر فضائی حملہ کیا گیا تھا جس میں کم از کم 5 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ ان حملوں میں پاپولر موبلائزیشن فورسز (پی ایم ایف) اور پولیس کو نشانہ بنایا گیا۔ سب سے بڑا حملہ بغداد کے شمال میں کرکوک صوبے میں ہوا جہاں پی ایم ایف کے ہیڈکوارٹر پر تین بار حملہ کیا گیا۔ اس حملے میں 3 جنگجو مارے گئے اور 4 دیگر زخمی ہوئے۔ مزید برآں موصل میں ایک پولیس چوکی پر فضائی حملہ ہوا، جس میں ایک افسر اور ایک پولیس اہلکار ہلاک، جب کہ 5 دیگر زخمی ہوئے۔ عراقی وزارت داخلہ نے اسے امریکہ اسرائیل کی جارحانہ کارروائی قرار دیا تھا۔

اس سے قبل عزیزیہ شہر میں عصائب اہل الحق گروپ کے ہیڈکوارٹر پر بھی فضائی حملہ کیا گیا تھا۔ اس گروپ سے وابستہ رکن پارلیمنٹ محسن الدلیمی نے اس حملے کو جارحانہ اور مجرمانہ قرار دیا۔ یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب امریکہ نے ملک میں سرگرم مسلح گروہوں کو روکنے کے لیے عراقی حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا وعدہ کیا ہے۔ یہ مسلسل حملے عراق اور پورے مشرق وسطیٰ میں تیزی سے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔