بغداد میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون اور راکٹ کی بارش، دھماکوں کے بعد کمپاؤنڈ میں لگی آگ

عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ امریکی سفارتخانے کو نشانہ بناکرکیا گیا کہ حملہ حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ حملے کے بعد سفارتخانے کے کمپاؤنڈ آگ بھڑک اُٹھی۔

<div class="paragraphs"><p>بغداد میں مظاہرین کا  امریکی سفارت خانے پر حملہ (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

عراق کی راجدھانی بغداد میں امریکی سفارتخانہ کو ڈرون اور راکٹ حملوں کی شدید لہر کا نشانہ بنایا گیا ہے جسے حالیہ عرصے کا سب سے بڑا اور شدید حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں اداروں اور فرانسیسی پریس ایجنسی کے مطابق عراقی سکیورٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ حملہ اتنا شدید تھا کہ اسے حالیہ حملوں کے آغاز کے بعد سب سے بڑا حملہ سمجھا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق حملوں سے چند گھنٹے قبل ہی امریکہ کے سفارتخانے نے عراق میں موجود اپنے شہریوں کے لیے سکیورٹی الرٹ جاری کیا تھا۔

عراق کی راجدھانی بغداد میں امریکی سفارت خانے پر منگل کو بڑا حملہ کیا گیا جس سے کمپاؤنڈ کے اندر آگ بھڑک اٹھی۔ یہ حملہ اس وقت ہوا جب دھماکہ خیز مواد سے لدے دو ڈرون سفارت خانے کے احاطے کے اندر گرے اور آگ بھڑک اٹھی۔ نیوز ایجنسی ’ژنہوا‘ کے مطابق عراق کی وزارت داخلہ کے ایک ذریعے نے بتایا کہ دونوں ڈرون سفارت خانے کی حفاظتی حدود کے اندر گرتے ہی پھٹ گئے جس سے کمپاؤنڈ میں آگ لگ گئی اور باہر سے بھی دھواں دکھائی دے رہا تھا۔ حملے کے دوران فوری طور پر پورے کمپاؤنڈ میں سائرن بجنے لگے لیکن سفارت خانے کا سیکیورٹی سسٹم ڈرون کو روکنے میں ناکام رہا۔ ذرائع کے مطابق امریکی دفاعی نظام آنے والے ڈرونز کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہا۔


فوری طور پر کسی جانی نقصان کی کوئی اطلاع نہیں ہے، حالانکہ آتشزدگی سے سفارت خانے کی عمارتوں اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ذرائع کے مطابق پیر کی شام سے لے کر منگل کی صبح تک سفارت خانے پر متعدد بار حملے کیے گئے۔ سامنے آئی ویڈیو فوٹیج میں سفارت خانے کے احاطے کے بالکل قریب ایک ڈرون پھٹتے ہوئے دکھایا گیا ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہی رات میں کئی بار امریکی صفارتخٓنے کو نشانہ بنایا گیا۔

بغداد کا گرین زون انتہائی محفوظ علاقہ سمجھا جاتا ہے۔ اس میں عراقی حکومت کی عمارتیں، پارلیمنٹ اور امریکی سفارت خانے سمیت کئی غیر ملکی سفارت خانے موجود ہیں۔ تاہم حالیہ برسوں میں یہ علاقہ متعدد راکٹ اور مارٹر حملوں کا نشانہ رہا ہے۔ دریں اثنا عراقی وزارت پٹرولیم نے اطلاع دی ہے کہ دو ڈرونز نے پیر کی رات گئے جنوبی عراق میں مجنون آئل فیلڈ کو نشانہ بنایا۔ وزارت تیل کے ترجمان صاحب بازون کے مطابق ایک ڈرون ٹیلی کام ٹاور سے ٹکرا یا تاہم کوئی نقصان نہیں ہوا۔ دوسرا ڈرون حملہ وہاں کام کررہی ایک امریکی کمپنی کے دفاتر کو نشانہ بناکر کیا گیا۔


دوسری جانب پیر کے روز عراق کے نیم فوجی ادارہ پاپولر موبلائزیشن فورسز نے دعویٰ کیا ہے کہ مغربی صوبے الانبار میں اسرائیلی حملے میں اس کے 6 ارکان ہلاک اور 4 زخمی ہو گئے ہیں۔ تنظیم کے مطابق یہ حملہ شام کی سرحد کے قریب واقع شہر القائم میں ایک چیک پوائنٹ پر کیا گیا۔ پی ایم ایف نے کہا کہ یہ جگہ ایک ’آفیشل سیکورٹی چوکی‘ تھی اور اس کے ارکان حملے کے وقت ملک کی سرزمین اور خودمختاری کی حفاظت کے لیے فرائض انجام دے رہے تھے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔