اسرائیلی فائرنگ سے غزہ کی پٹی میں 13 افراد جاں بحق
جنگ بندی کے نفاذ کے باوجود غزہ کی پٹی میں اسرائیلی حملے۔ جمعرات کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 5 بچے بھی شامل۔

جمعرات کو غزہ کی پٹی پر اسرائیلی حملوں میں 13 افراد جاں بحق ہوئے جن میں 5 بچے بھی شامل ہیں، حالانکہ اسرائیل اور حماس تنظیم کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہے۔غزہ میں شہری دفاع کے ترجمان محمود بصل نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں ایک ڈرون طیارے نے بے گھر افراد کو پناہ دینے والے خیمے کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت 4 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ خان یونس کے قریب ایک بچہ بھی مارا گیا۔
ترجمان کے مطابق غزہ کی پٹی کے شمال میں جبالیہ کیمپ کے قریب ایک حملے میں 11 سالہ بچی جاں بحق ہوئی۔ اسی طرح شمالی غزہ میں ایک اسکول پر بم باری کے نتیجے میں ایک شخص مارا گیا، جبکہ بے گھر افراد کے ایک اور خیمے کو نشانہ بنائے جانے سے بھی ایک شخص جان سے گیا۔ غزہ کی پٹی کے وسطی حصے میں دیگر حملوں کے دوران دو افراد جاں بحق ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔
بعد ازاں جمعرات کی شام اسرائیلی فضائی حملے میں غزہ شہر کے مشرقی علاقے میں ایک گھر کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں مزید 4 افراد جاں بحق ہو گئے۔ محمود بصل نے تصدیق کی کہ متعدد لا پتا افراد کی تلاش کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
اس سے پہلے جمعرات ہی کو اسرائیلی فوج نے اعلان کیا کہ ایک گولا "غزہ شہر کے علاقے سے اسرائیل کی جانب داغا گیا"، تاہم وہ غزہ کی پٹی کے اندر ہی گر گیا۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا "اس کے کچھ ہی بعد فوج نے درستگی کے ساتھ لانچنگ پوائنٹ کو نشانہ بنایا۔"
حماس تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ جمعرات کو غزہ پر ہونے والے حملے "اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ اسرائیلی قابض طاقت جنگ بندی کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے دستبردار ہو چکی ہے۔" غزہ میں جنگ بندی 10 اکتوبر کو نافذ ہوئی تھی، تاہم اس دوران متعدد خلاف ورزیاں ہوئیں اور تب سے اب تک 425 سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اسی مدت کے دوران مسلح افراد نے اس کے 3 فوجیوں کو ہلاک کیا۔ (بشکریہ نیوز پورٹل ’العربیہ ڈاٹ نیٹ، اردو‘)