عالمی خبریں

بوئنگ 737 طیاروں کے سافٹ ویئر کو مزید بہتر بنانے کی منظوری

’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ میں سرکاری دستاویزات اور حالات سے واقف لوگوں کے حوالے سے کہا گیا کہ پرواز-کنٹرول نظام کے ساتھ کمیوں کو حل کرنے کے مقصد سے تبدیلی کی گئی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

واشنگٹن: امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) نے بوئنگ 737 میکس طیاروں کے سافٹ ویئر کو بہتر بنانے اور پائلٹوں کی تربیت میں تبدیلی کی منظوری دے دی ہے۔ یہ رپورٹ مقامی میڈیا نے دی ہے۔ دو بڑے حادثوں کے بعد کئی ممالک نے ان طیاروں کی پرواز پر روک لگا دی ہے۔

’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ کی رپورٹ میں سرکاری دستاویزات اور حالات سے واقف لوگوں کے حوالے سے کہا گیا کہ پرواز-کنٹرول نظام کے ساتھ کمیوں کو حل کرنے کے مقصد سے تبدیلی کی گئی ہے۔

سمجھا جاتا ہے کہ گزشتہ سال اکتوبر میں ایک انڈونیشیائی جیٹ طیارہ خود کار طریقے ’اسٹال پریونشن سسٹم‘ کی وجہ سے گر کر تباہ ہو گیا تھا، پائلٹوں کے لئے اسے زیادہ کنٹرول کے قابل بنانے کے لئے نظر ثانی کی جائے گی اور پائلٹوں کو تربیت بھی دی جائے گی۔

انڈونیشیا طیارے کے حادثے کے پانچ ماہ سے کم عرصہ میں ایک ایتھوپیا ایئر لائنز کریش ہوا جس میں 157 افراد ہلاک ہو گئے، ان دونوں حادثات کے پیش نظر تقریباً 20 ممالک نے بوئنگ 737 میکس 8 جیٹ کے لئے اپنی فضائی سروس بند کردی ہے۔

Published: undefined

یاد رہے اس طیارہ حادثہ میں 4 ہندوستانی شہری بھی ہلاک ہوگئے تھے، جس کے بعد دنیا کے کئی ممالک میں بوئنگ 737 جہازوں پر پابندی عائد کیے جانے کے بعد ہندوستان نے بھی اس جہاز پر پابندی عائد کر دی تھی۔ ایتھوپیا حادثہ کے بعد ڈی جی سی اے (ڈائریکٹریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن) نے بوئنگ 737 جہازوں پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ہندوستان میں اسپائس جیٹ کے بیڑے میں 8 بوئنگ 737 میکس جہاز ہیں۔ اسپائس کے علاوہ صرف جیٹ ایئرویز ہی ملک میں بوئنگ 737 میکس جہازوں کا استعمال کرتی ہے۔

غور طلب ہے کہ ایتھوپیا کے ادیس ابابا میں ایک مسافر بردار بوئنگ 737 جہازحادثہ کا شکار ہو گیا تھا۔ اس طیارہ حادثہ میں سوار تمام 157 مسافروں کی موت ہو گئی تھی۔ اس سے قبل انڈونیشیا میں اکتوبر 2018 میں بھی بوئنگ 737 جہاز حادثہ کا شکار ہوا تھا، اس میں 189 لوگوں کی جان چلی گئی تھی۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined