
مشیل بارنیئر، تصویر 'ایکس' @FortuneMagazine
فرانس کی حکومت مصیبت میں آ گئی ہے۔ یہاں کی اپوزیشن جماعتیں وزیر اعظم مشیل بارنیئر کی کابینہ کو گرانے کے لیے بضد ہو گئی ہیں اور پارلیمنٹ میں تحریک عدم اعتماد لانے والی ہیں۔ اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو بارنیئر کی حکومت فرانس کی جدید تاریخ میں سب سے کم وقت تک چلنے والی حکومت بن جائے گی۔ اس کے بعد صدر ایمینوئل میکروں کو نئے وزیر اعظم کی تقرری کرنی ہوگی۔
Published: undefined
جون-جولائی میں ہوئے پارلیمانی انتخابات کے بعد فرانس کی نیشنل اسمبلی تین اہم دھڑوں میں منقسم ہو چکی ہے۔ کسی بھی ایک کو واضح اکثریت نہیں ملی ہے۔ ستمبر میں میکروں نے برنیئر کو حکومت بنانے کے لیے کہا تھا۔ مارِن لے پین نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی حکومت کو گرانے کے حق میں ووٹ دے گی۔ انہوں نے بارنیئر پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے مطالبات کو نظر انداز کیا ہے۔ وہیں بائیں بازو کے اتحاد نے اس بجٹ کو سخت بجٹ قرار دیتے ہوئے مکالمہ کی کمی اور پارلیمانی کام کاج کو نظر انداز کرنے کی شدید تنقید کی ہے۔
واضح ہو کہ فرانس کی پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تجویز پاس ہونے کے لیے 288 ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ بائیں بازو اور دور دراز کی پارٹیوں کے پاس ملاکر 330 سے زیادہ ووٹ ہیں۔ حالانکہ کچھ رکن پارلیمنٹ ووٹنگ کا بائیکاٹ بھی کر سکتے ہیں۔
Published: undefined
اگر بدھ کو تحریک عدم اعتماد منظور ہو جاتی ہے تو یہ گزشتہ 60 برسوں میں پہلی تحریک عدم اعتماد ہوگی جو کامیاب ہوگی۔ اگر حکومت گرتی ہے تو میکروں پرانے وزراء سے حالیہ معاملوں کو سنبھالنے کے لیے کہہ سکتے ہیں۔ اس کے بعد نئے وزیر اعظم کی تقرری کا عمل شروع ہوگا۔ فرانسیسی آئین کے مطابق نیشنل اسمبلی کو کم سے کم ایک سال تک برقرار رہنا ہوتا ہے۔
Published: undefined
فی الحال بارنیئر کی جگہ پر کسی اہم شخص کا نام سامنے نہیں آیا ہے۔ کچھ رپورٹوں کے مطابق میکروں اپنے اتحاد سے کسی رہنما کو وزیر اعظم بنا سکتے ہیں۔ وہیں بایاں بازو بائیں بازو کی کابینہ تشکیل دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ کچھ اپوزیشن رہنماؤں نے میکروں کو صدر عہدہ سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا ہے لیکن فرایسی صدر نے اس متبادل سے پہلے ہی انکار کر دیا ہے۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined