ٹویشا شرما موت معاملہ: قومی کمیشن برائے خواتین نے ڈی جی پی سے 7 دنوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا

قومی کمیشن برائے خواتین کی صدر وجیا رہاٹکر نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھ کر معاملے میں فوری اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ویڈیو گریب</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

قومی کمیشن برائے خواتین نے بھوپال میں نوئیڈا کی رہائشی ٹویشا شرما کی مشتبہ موت سے متعلق معاملے کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ کمیشن نے میڈیا رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ شادی کے 5 ماہ کے اندر ٹویشا شرما کی مشتبہ حالت میں موت ہو گئی۔ متاثرہ کے اہل خانہ نے شوہر سمارتھ سنگھ اور ساس گیری بالا سنگھ پر جہیز کے لیے ہراساں کرنے اور ذہنی و جسمانی اذیت کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔ دوسری جانب انصاف اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑی تعداد میں سابق فوجی افسران اور سابق فوجی سڑکوں پر اتر آئے ہیں۔

قومی کمیشن برائے خواتین کی صدر وجیا رہاٹکر نے مدھیہ پردیش کے چیف سکریٹری اور پولیس کے ڈائریکٹر جنرل کو خط لکھ کر معاملے میں فوری اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی ہے۔ کمیشن نے 7 دنوں کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔ ساتھ ہی ایف آئی آر میں شامل کی گئی دفعات، ملزمان کی گرفتاری، پوچھ گچھ کی صورتحال، فرار ملزم سمارتھ سنگھ کی گرفتاری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کی جانکاری مانگی ہے۔ اس کے علاوہ پاسپورٹ ضبطی (امپاؤندمنٹ) کی حالت، سی سی ٹی وی فوٹیج، کال ریکارڈ، الیکٹرانک اور فارینسک ثبوت، پوسٹ مارٹم رپورٹ اور سابقہ شکایات پر ہونے والی کارروائی کے متعلق تفصیلی معلومات فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔


کمیشن نے ہدایت دی ہے کہ متاثرہ کے اہل خانہ کو کسی بھی قسم کی دھمکی، دباؤ یا کردار کشی سے تحفظ فراہم کیا جائے، تاکہ منصفانہ ماحول میں عدالتی عمل آگے بڑھ سکے۔ قومی کمیشن برائے خواتین نے واقعے کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف جہیز کے لیے ہراساں کرنے اور گھریلو تشدد سے متعلق معاملات میں کسی بھی قسم کی لاپرواہی یا اثر و رسوخ کا غلط استعمال قبول نہیں کیا جائے گا اور قصورواروں کے خلاف سخت کارروائی یقینی بنائی جانی چاہیے۔

بھوپال میں ٹویشا شرما کی مشتبہ حالت میں ہونے والی موت کا معاملہ اب طول پکڑتا جا رہا ہے۔ بدھ کو انصاف اور منصفانہ تحقیقات کے مطالبے کو لے کر بڑی تعداد میں سابق فوجی افسران اور سابق فوجی سڑکوں پر اتر آئے۔ وردی ویلفیئر سوسائٹی کی قیادت میں منعقدہ اس احتجاجی ریلی میں شامل سابق فوجیوں نے پولیس تحقیقات اور کارروائی پر سنگین سوال اٹھاتے ہوئے معاملے کی شفاف تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ احتجاجی ریلی کی شروعات ’شوریہ اسمارک‘ سے ہوئی، جہاں سابق فوجیوں نے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اس کے بعد ہاتھوں میں تختیاں اور بینر لے کر مظاہرین وزیر اعلیٰ کی رہائش، پولیس ہیڈکوارٹر اور راج بھون کی جانب روانہ ہوئے۔ احتجاج کے دوران ’ٹویشا کو انصاف دو‘ اور ’منصفانہ تحقیقات ہو‘ جیسے نعرے گونجتے رہے۔ سابق فوجیوں نے کہا کہ یہ صرف ایک خاندان کی لڑائی نہیں بلکہ انصاف کے نظام پر اعتماد برقرار رکھنے کا سوال ہے۔


سابق فوجیوں کا کہنا ہے کہ ٹویشا شرما اور ان کے خاندان کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پولیس تحقیقات میں کئی اہم پہلوؤں کو نظر انداز کیا جا رہا ہے جس سے اہل خانہ کو انصاف ملنے میں تاخیر ہو رہی ہے۔ مظاہرین  نے یہ بھی کہا کہ معاملے سے منسلک فوجی افسران اس وقت ملک کی سرحدوں پر خدمات انجام دے رہے ہیں، جو فوجی نظم و ضبط اور قانونی دائرے میں بندھے ہونے کی وجہ سے خود کھل کر احتجاج نہیں کر سکتے، ایسے میں سابق فوجی برادی ان کی حمایت میں آگے آئی ہے۔

غور طلب ہے کہ ٹویشا شرما کے والد، اہل خانہ اور سابق فوجی افسران نے مشترکہ پریس کانفرنس کر کے پولیس تحقیقات کی غیرجانبداری پر سوال اٹھائے تھے۔ ان کا الزام تھا کہ معاملے کی تحقیقات صحیح سمت میں نہیں بڑھ رہی ہیں۔ اس کی مخالفت میں بدھ کو سابق فوجیوں نے جمع ہو کر حکومت اور انتظامیہ تک اپنی آواز پہنچائی۔ مظاہرین نے وارننگ دی کہ اگر جلد منصفانہ تحقیقات اور ٹھوس کارروائی نہیں ہوئی تو تحریک کو مزید وسعت دی جائے گی۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔