’گریٹ نکوبار پروجیکٹ خالص تجارتی منصوبہ‘، مودی حکومت پر پروپیگنڈا مہم چلانے کا الزام، کانگریس کا حملہ
کانگریس نے مودی حکومت پر گریٹ نکوبار پروجیٹ کے ماحولیاتی اثرات پر آواز اٹھانے والوں کے خلاف پروپیگنڈا چلانے کا الزام لگایا۔ جے رام رمیش نے منصوبے کو تجارتی قرار دیتے ہوئے چین پالیسی پر بھی سوال اٹھائے

نئی دہلی: کانگریس نے بدھ کے روز مرکزی حکومت پر گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبے کے ماحولیاتی اثرات پر تشویش ظاہر کرنے والوں کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ ایک خالص تجارتی منصوبہ ہے اور اس کا فوجی بنیادی ڈھانچے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری بیان میں دعویٰ کیا کہ مودی حکومت اپنے نظام کے ذریعے ایک ایسی مہم چلا رہی ہے جس کے تحت گریٹ نکوبار جزیرہ منصوبے سے ماحولیات کو ہونے والے ممکنہ نقصان پر سوال اٹھانے والوں کو چین کے تئیں نرم رویہ رکھنے والا ظاہر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
جے رام رمیش نے کہا کہ حکومت اس معاملے کو چین سے جوڑ کر دوہرا معیار اپنا رہی ہے۔ ان کے مطابق مرکزی حکومت خود چین کے حوالے سے ’مسلسل اور منصوبہ بند سپردگی‘ کی پالیسی پر عمل کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ 19 جون 2020 کو وزیر اعظم نریندر مودی نے چین کے تعلق سے ایسا موقف اختیار کیا تھا جس سے لداخ میں جان قربان کرنے والے فوجیوں کی توہین ہوئی۔
کانگریس رہنما نے دعویٰ کیا کہ چین کے ساتھ مذاکرات کے دوران حکومت نے لداخ کے بعض علاقوں میں روایتی گشت اور مویشی چرانے کے حقوق سے دستبرداری اختیار کی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ 2025-26 کے دوران چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ تقریباً 115 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جس سے ملکی صنعتوں، خاص طور پر چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو نقصان پہنچا۔
جے رام رمیش نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ گریٹ نکوبار پروجیکٹ بنیادی طور پر ایک تجارتی منصوبہ ہے اور اس کے ٹرانس شپمنٹ بندرگاہ والے حصے میں کسی فوجی ڈھانچے کا عنصر شامل نہیں ہے۔ ان کے مطابق فوجی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کے لیے تجاویز دی گئی تھیں، لیکن ان پر توجہ نہیں دی گئی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم نریندر مودی اس منصوبے کو تیزی سے آگے بڑھا رہے ہیں اور مستقبل میں اس کے ایک بڑے کاروباری مفاد کا حصہ بننے کے امکانات موجود ہیں۔ کانگریس رہنما نے مزید کہا کہ گریٹ نکوبار منصوبے کے نتیجے میں ماحولیات اور انسانی سطح پر سنگین اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، اس لیے اس معاملے پر سنجیدہ غور کی ضرورت ہے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
