ایران سے جنگ میں ٹرمپ کو ادا کرنی پڑی بھاری قیمت، امریکہ کے 42 طیارے تباہ، پارلیمنٹ کی رپورٹ میں اہم انکشاف

28 فروری کو شروع ہونے والی فوجی مہم میں مسلسل 40 دنوں تک فضائی، سمندری اور میزائل حملے کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ان میں جنگی طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>امریکہ-ایران جنگ، قومی آواز گرافکس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

ایران جنگ سے متعلق ایک ایسی رپورٹ سامنے آئی ہے جس نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی پارلیمنٹ کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف 40 دنوں تک جاری رہنے والی فوجی مہم کے دوران امریکہ کے مجموعی طور پر 42 طیارے یا تو تباہ ہو گئے یا انہیں بری طرح نقصان پہنچا ہے۔ اس دعوے کے بعد امریکی فوجی طاقت، جنگی حکمت عملی اور مہم کی اصل قیمت پر سنگین سوالات اٹھنے لگے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے خلاف ’آپریشن ایپک فیوری‘ چلایا تھا۔ 28 فروری 2026 کو شروع ہونے والی اس مہم میں مسلسل 40 دنوں تک فضائی، سمندری اور میزائل حملے کیے گئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن طیاروں کو نقصان پہنچا ہے ان میں لڑاکو طیارے، ہیلی کاپٹر اور ڈرون شامل ہیں۔ ان میں 4 ایف-15ای اسٹرائک ایگل لڑاکو طیارے، ایک ایف-35اے لائٹننگ-2 لڑاکو طیارے اور ایک اے-10 تھنڈربولٹ-2 حملہ طیارہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 7 کے سی-135 اسٹریٹو ٹینکر ایندھن بھرنے والے طیارے، ایک ای-3 سنٹری اویکس طیارہ، 2 ایم سی-130جے کمانڈو-2 خصوصی مہم کے طیارے اور ایک ایچ ایچ-60 ڈبلیو جولی گرین-2 ہیلی کاپٹر بھی متاثر ہوئے۔ رپورٹ میں ایم کیو-9 ریپر ڈرون اور ایک ایم کیو-4سی ٹرائن ڈرون کے نقصان کا بھی دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ معلومات نیوز رپورٹس، امریکی محکمہ دفاع اور امریکی سنٹرل کمانڈ کے بیانوں کی بنیاد پر تیار کی گئی ہے۔


امریکی پارلیمنٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نقصان کے اعداد و شمار آگے چل کر بدل بھی سکتے ہیں، کیونکہ بہت ساری معلومات ابھی خفیہ ہیں اور فوجی کارروائی سے متعلق تحقیقات جاری ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اپریل میں جنگ بندی کے حالات کچھ وقت کے لیے پرامن ہوئے تھے، لیکن کچھ ہفتوں بعد پھر حملے شروع ہو گئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمہ دفاع نے اب تک مہم میں ہونے والے مجموعی نقصان کی مکمل جانکاری عوامی نہیں کی ہے۔ جبکہ 12 مئی 2026 کو ہوئی سماعت میں پینٹاگن کے قائم مقام کنٹرولر جولز ڈبلیو ہرسٹ تھرڈ نے بتایا کہ ایران مہم پر امریکی اخراجات بڑھ کر 29 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں۔

اس رپورٹ پر ردعدمل کا اظہار کرتے ہوئے ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی پارلیمنٹ نے خود قبول کیا ہے کہ جنگ کے دوران اربوں ڈالر کے کئی طیارے تباہ ہوئے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ جنگ شروع ہونے کے کئی ماہ بعد امریکہ اب نقصان ماننے کو مجبور ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فوج دنیا کی پہلی ایسی فوج بنی جس نے ایف-35 لڑاکو طیارے کو مار گرایا۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا اس جنگ سے ایران نے کئی اہم فوجی تجربات حاصل کیے ہیں اور اگر مستقبل میں پھر سے جنگ ہوئی تو دنیا کو اور بڑے ’سرپرائز‘ دیکھنے کو مل سکتے ہیں۔


رپورٹ سامنے آنے کے بعد امریکہ کی فوجی مہم کی لاگت اور اس کی اسٹریٹجک کامیابی کے حوالے سے بحث تیز ہو گئی ہے۔ ایک طرف امریکہ اور اسرائیل اس آپریشن کو ایران پر دباؤ بنانے کی کارروائی قرار دے رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف سامنے آئے نقصان کے دعوے یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ جنگ کی اصل قیمت کہیں زیادہ بھاری ہو سکتی ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔