کیرلم کے وزیر اعلیٰ ستیسن نے اپنے پاس رکھے 35 محکمے، وزارت داخلہ کی ذمہ داری چینیتھالا کے سپرد

وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے 20 مئی کو اپنے بیان میں کہا کہ کانگریس کیق یادت والے یو ڈی ایف کے سیکولر رخ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ یو ڈی ایف فرقہ واریت کی سخت مخالفت کرتا رہے گا۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کیرلم کی کانگریس قیادت والی یو ڈی ایف حکومت نے نئی کابینہ میں محکموں کی تقسیم کا اعلان کر دیا ہے۔ کیرلم لوک بھون کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے مالیات، قانون، عمومی انتظامیہ اور بندرگاہوں سمیت 35 محکمے اپنے پاس رکھے ہیں۔ اہم فیصلوں اور پالیسی سازی سے متعلق کئی کلیدی محکمے خود وزیر اعلیٰ سنبھالیں گے، جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت کے بیشتر اہم اختیارات وزیر اعلیٰ دفتر کے پاس ہی رہیں گے۔

کانگریس کے سینئر لیڈر رمیش چینیتھالا کو وزارتِ داخلہ اور ویجیلنس محکمہ سونپا گیا ہے۔ ویجیلنس ایسا محکمہ ہوتا ہے جو بدعنوانی پر نظر رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ وہ مزید 3 محکموں کے امور بھی سنبھالیں گے۔ آئی یو ایم ایل لیڈر پی کے کنہالی کٹی صنعت اور کاروبار سے متعلق 7 محکموں کی ذمہ داری سنبھالیں گے، جن میں صنعت، آئی ٹی اور ٹیکسٹائل کی وزارتیں شامل ہیں۔ کیرلم کانگریس کے صدر سنی جوزف کو بجلی اور ماحولیات کی وزارتیں سونپی گئی ہیں۔


دی گئی جانکاری کے مطابق مرلی دھرن کو صحت اور دیواسم (مندروں اور مذہبی مقامات کی نگرانی کرنے والا محکمہ) کا وزیر بنایا گیا ہے۔ کیرلم حکومت میں روزی ایم جان اعلیٰ تعلیم کا محکمہ سنبھالیں گی، جبکہ اے پی انل کمار کو زمین اور محصولات کا محکمہ دیا گیا ہے۔ شمس الدین کو کیرلم کا نیا وزیر برائے عمومی تعلیم مقرر کیا گیا ہے۔

اس درمیان کیرلم کے وزیر اعلیٰ وی ڈی ستیسن نے بدھ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا کہ کانگریس کی قیادت والے متحدہ جمہوری محاذ (یو ڈی ایف) کے سیکولر موقف پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یو ڈی ایف فرقہ پرستی کی سخت مخالفت کرتا رہے گا۔ کابینہ اجلاس کے بعد وزیر اعلیٰ ستیسن نے کہا کہ ان کے اور یو ڈی ایف کے اختیار کردہ سیکولر موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’یہ ایک نہایت مضبوط سیکولر موقف ہے۔ جو بھی فرقہ پرستی کی زبان بولے گا، اس کی سخت مخالفت کی جائے گی۔ یہ یو ڈی ایف کا مضبوط سیکولر مؤقف ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔‘‘