
تصویر آئی اے این ایس
ڈھاکہ: بنگلہ دیش کی عوامی لیگ کی سیاسی سرگرمیوں میں حالیہ دنوں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے، جس سے مرکزی سیاست میں اس کی ممکنہ واپسی کے اشارے مل رہے ہیں۔ ملک کے متعدد اضلاع میں مقامی رہنماؤں اور کارکنوں نے پارٹی دفاتر دوبارہ کھول دیے ہیں، قومی اور جماعتی پرچم لہرائے ہیں اور بینر و پوسٹر آویزاں کیے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان سرگرمیوں کو روکنے کے لیے کسی قسم کی فوری کارروائی سامنے نہیں آئی۔
Published: undefined
بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ میں شائع ایک تجزیے میں بنگلہ دیشی محقق اور صحافی پورنیما چوہان نے لکھا ہے کہ یہ اقدامات محض رسمی نوعیت کے نہیں بلکہ پارٹی کی سیاسی موجودگی کا واضح پیغام ہیں۔ ان کے مطابق اس عمل کا مقصد کارکنوں کو یہ نفسیاتی یقین دلانا ہے کہ جماعت دوبارہ منظم ہو رہی ہے اور سیاسی میدان میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کی قیادت میں عوامی لیگ نے پندرہ برس سے زیادہ عرصے تک اقتدار سنبھالا، تاہم 5 اگست 2024 کو اقتدار سے علیحدگی کے بعد جماعت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ مئی 2025 میں محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے جماعت پر پابندی عائد کر دی اور 12 فروری کو منعقدہ قومی انتخابات میں حصہ لینے سے روک دیا۔ اس اقدام کے بعد پارٹی کی تنظیمی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی تھیں۔
Published: undefined
رپورٹ کے مطابق پابندی کے علاوہ پارٹی کے متعدد رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف مقدمات قائم کیے گئے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں۔ شیخ حسینہ اور ان کے صاحبزادے ساجیب واجد جوی اس وقت ملک سے باہر ہیں، جب کہ کئی دیگر رہنما یا تو روپوش ہیں یا بیرون ملک مقیم ہیں۔ اس صورتحال میں تنظیم کی ازسر نو تشکیل ایک بڑا چیلنج قرار دی جا رہی ہے۔
سیاسی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ آیا بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی قیادت عوامی لیگ کو دوبارہ مکمل سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دے گی یا نہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ چند انتخابی حلقوں میں عوامی لیگ سے وابستہ عناصر نے بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کے امیدواروں کی حمایت کی تھی، جس سے دونوں جماعتوں کے درمیان رابطے کے امکانات پیدا ہوئے۔ کچھ ارکان پارلیمان نے بھی عوامی لیگ کی واپسی کے حق میں بیانات دیے ہیں۔
Published: undefined
تجزیے میں یہ نکتہ اٹھایا گیا ہے کہ آیا عوامی لیگ اس وقت محض اپنے وجود کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے یا منظم سیاسی واپسی کی تیاری میں مصروف ہے۔ انتخاب سے قبل کیے گئے بعض جائزوں میں اشارہ دیا گیا تھا کہ اگر جماعت کو حصہ لینے کا موقع ملتا تو اس کی کارکردگی بہتر رہ سکتی تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس کی عوامی بنیاد مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔
مبصرین کے مطابق اگر عوامی لیگ مضبوط واپسی چاہتی ہے تو اسے علامتی سرگرمیوں سے آگے بڑھ کر واضح حکمت عملی، عوامی مسائل پر مبنی پروگرام، نوجوانوں کی شمولیت اور قیادت کے سوال پر شفاف موقف اختیار کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر قیادت کے حوالے سے قیاس آرائیاں اور اندرونی اختلافات شدت اختیار کر سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں اتنا طے ہے کہ بنگلہ دیش کی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور آئندہ مہینوں میں اس کے اثرات مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز