شی جن پنگ کی سفارتی چال اور ٹرمپ کی آزمائش، کیا عالمی طاقت کا توازن بدل رہا ہے؟...اشوک سوین
چین اور روس کی قربت، امریکہ کی یکطرفہ پالیسیوں اور کثیر قطبی دنیا کے تصور پر مبنی یہ مضمون بتاتا ہے کہ شی جن پنگ کس طرح عالمی سیاست میں چین کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں

ڈونالڈ ٹرمپ کے چین سے روانہ ہونے کے چند ہی دن بعد جب ولادیمیر پوتن بیجنگ پہنچے تو شی جن پنگ نے محض ایک اور سربراہ اجلاس کی میزبانی نہیں کی، بلکہ ایک واضح جغرافیائی سیاسی پیغام دیا۔ ٹرمپ چین اس اعتماد کے ساتھ آئے تھے کہ اگر لین دین پر مبنی دباؤ کی سیاست کام نہ بھی کرے تو کم از کم ذاتی سفارت کاری دنیا کو واشنگٹن کی مرضی کے آگے جھکا سکتی ہے۔ شی نے پوتن کے ساتھ کھڑے ہو کر اس کا ایسا جواب دیا گویا اعلان کر رہے ہوں کہ امریکی بالادستی کے یک قطبی دور کا خاتمہ اب قریب آ چکا ہے۔
شی-پوتن سربراہ اجلاس ایک سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ تھا۔ کثیر قطبی دنیا کے حق میں ایک مشترکہ اعلامیے پر دستخط کرکے چین اور روس نے ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی تصور کو براہِ راست چیلنج کیا، جس کے مطابق امریکہ اب بھی عالمی نظام کی تعریف کر سکتا ہے، یہ طے کر سکتا ہے کہ کون سی جنگیں جائز ہیں، کن ممالک کو سزا دی جانی چاہیے اور دوسرے ممالک اس کی بات ماننے کے پابند ہیں۔
ٹرمپ کے عالمی نقطۂ نظر نے مسلسل امریکی اثر و رسوخ کا حد سے زیادہ اندازہ لگایا ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھروسا کیا ہے کہ امریکہ چین، روس، ہندوستان، ایران اور حتیٰ کہ نیٹو کے اتحادیوں جیسے ممالک کو یا تو تعاون پر آمادہ کر سکتا ہے یا پھر اس کی قیمت چکانے پر مجبور کر سکتا ہے۔ پابندیاں، ٹیرف، فوجی حملے، نمائشی سربراہ اجلاس اور ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر دی جانے والی دھمکیاں اب امریکی حکمت عملی کا حصہ بن چکی ہیں۔ تاہم جہاں ہندوستان جیسی بعض طاقتوں نے اس دباؤ کے سامنے جھکنے کا راستہ اختیار کیا، وہیں چین، روس اور حالیہ عرصے میں ایران نے نہ صرف اس کا بھرپور مقابلہ کیا بلکہ امریکی چالوں کو ناکام بنانے میں بھی کامیابی حاصل کی۔
یہ ممالک اور ان کی قیادت ٹرمپ کی کمزوریوں کو بخوبی سمجھتی ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ شی جن پنگ نے ٹرمپ کا سامنا لاپروائی سے کیا ہو۔ اس کے برعکس وہ بتدریج اپنی پوزیشن مضبوط کرتے جاتے ہیں۔ وہ ٹرمپ کا خوش اسلوبی سے استقبال کرتے ہیں، اقتصادی راستے کھلے رکھتے ہیں، غیر ضروری تصادم سے گریز کرتے ہیں اور پھر فوراً پوتن کی میزبانی کرتے ہوئے یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ چین واشنگٹن کے قائم کردہ بین الاقوامی نظام کے جال میں پھنسنے والا نہیں۔ شی کے چیلنج کا نچوڑ یہی ہے: لہجہ نرم، مگر پیغام نہایت واضح اور مضبوط۔
ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے فوجی حملوں کی مذمت نے اس سربراہ اجلاس کو مزید سخت اور دوٹوک رنگ دے دیا۔ ان حملوں کو بین الاقوامی قانون اور عالمی تعلقات کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شی اور پوتن نے تہران کے بجائے واشنگٹن کو کٹہرے میں کھڑا کیا۔ یہ صرف ایران کے دفاع کا معاملہ نہیں تھا بلکہ اس وسیع تر دعوے کا اظہار تھا کہ کوئی بھی طاقت، خواہ کتنی ہی مضبوط کیوں نہ ہو، اقوام متحدہ کے اختیار سے بالاتر ہو کر کسی دوسرے ملک پر بمباری کرنے، اس پر پابندیاں عائد کرنے یا اسے غیر مستحکم کرنے کا حق نہیں رکھتی۔
ٹرمپ بظاہر امن کی باتیں کرتے ہیں اور نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں، لیکن ان کی حکومت مسلسل ’’طاقت کے ذریعے امن‘‘ کے نظریے کو فروغ دیتی ہے، جو دراصل اپنی مرضی کے نتائج حاصل کرنے کے لیے طاقت کے استعمال اور اس کے اظہار کا دوسرا نام ہے۔ وہ کثیر فریقی اداروں پر حملے کرتے ہیں، لیکن جب دوسرے ممالک ان کے متبادل ڈھانچے قائم کرنے لگتے ہیں تو اعتراض بھی کرتے ہیں۔
جب امریکہ کے مفادات کا سوال آتا ہے تو ٹرمپ کی انتظامیہ خودمختاری کے اصول کا حوالہ دیتی ہے، لیکن اسی اصول کی کھلی خلاف ورزی بھی کرتی ہے، جیسا کہ وینزویلا اور ایران میں امریکی اقدامات اور اسرائیل کی جنگی کارروائیوں کے لیے امریکی حمایت سے ظاہر ہوتا ہے۔ شی جن پنگ نے اسی تضاد کو شناخت کیا اور اسے ایک مؤثر سفارتی ہتھیار میں تبدیل کر دیا۔
چین کا پیغام نہایت واضح ہے: بین الاقوامی قانونی حیثیت اور جواز کا مرکز واشنگٹن نہیں بلکہ اقوام متحدہ ہونا چاہیے۔
بلاشبہ، بیجنگ کا اپنا ریکارڈ بھی بے داغ نہیں ہے۔ تائیوان، بحیرۂ جنوبی چین اور انسانی حقوق کے معاملوں میں اس کے رخ پر تنقید ہوتی رہی ہے۔ اسی طرح، یوکرین پر روس کے حملے نے بھی خودمختاری سے متعلق کسی بھی مذاکرہ میں ماسکو کی صورت حال کمزور کر دی ہے۔ پھر بھی شی کے اس اقدام کی اصل طاقت اس کی اخلاقی بنیاد میں نہیں، اس کے سیاسی دورانیہ میں ہے۔ ٹرمپ کی یکطرفہ سوچ، ان کے وعدوں اور اقدامات کی غیریقینی نے چین کے لیے خود کو اصولوں، تحمل اور عالمی توازن کے محافظ کے طور پر پیش کرنا آسان کر دیا ہے۔
امریکی اظمت کی آڑ میں ٹرمپ بین الاقوامی نظام پر جتنا حملہ کرتے ہیں، شی کے لیے عالمی ذمہ داری کی گنجائش اتنی ہی زیادہ بنتی جاتی ہے۔ واشنگٹن جتنا زیادہ ایک توسیع پسند کی طرح برتاؤ کرتا ہے، ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقی ایشیا کے کئی ممالک بیجنگ کی کثیر محوراتی زبان اتنی ہی یقینی لگتی ہے۔
امریکی عظمت کے نام پر ٹرمپ جتنا زیادہ بین الاقوامی نظام کو چیلنج کرتے ہیں، شی جن پنگ کے لیے خود کو عالمی ذمہ داری اور استحکام کے داعی کے طور پر پیش کرنے کی گنجائش اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ واشنگٹن جتنا زیادہ توسیع پسندانہ طرزِ عمل اختیار کرتا ہے، ایشیا، افریقہ، لاطینی امریکہ اور مشرقی ایشیا کے متعدد ممالک کو بیجنگ کا کثیر قطبی عالمی نظام کا بیانیہ اتنا ہی زیادہ قابلِ قبول اور قابلِ اعتماد محسوس ہونے لگتا ہے۔
شی جن پنگ دنیا سے یہ نہیں کہہ رہے کہ وہ امریکہ کے بجائے روس کا انتخاب کرے۔ وہ تو دنیا کو یہ سوال اٹھانے کی دعوت دے رہے ہیں کہ آخر ہر دوسرے ملک کے طرزِ عمل کا آخری فیصلہ کرنے والا امریکہ ہی کیوں ہو۔ یہ کہیں زیادہ پیچیدہ چیلنج ہے۔ یہ نہ صرف آمرانہ نظام رکھنے والے ممالک کو پسند آتا ہے بلکہ ان حکومتوں کو بھی اپنی جانب متوجہ کرتا ہے جو مغربی ممالک کے دوہرے معیار سے تنگ آ چکی ہیں۔
بیجنگ سربراہ اجلاس نے یہ بھی واضح کیا کہ روس کو چین کی جتنی ضرورت ہے، چین کو روس کی اتنی ضرورت نہیں۔ پوتن کو منڈیاں، ٹیکنالوجی، سفارتی تحفظ اور توانائی کے خریدار درکار ہیں۔ شی جن پنگ روس کو ایک تزویراتی توازن قائم رکھنے والے شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن وہ اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ چین کہیں ماسکو پر حد سے زیادہ انحصار نہ کرنے لگے۔ طویل عرصے سے زیر التوا پائپ لائن منصوبوں سمیت توانائی سے متعلق اہم فیصلوں کو حتمی شکل نہ دیے جا سکنے سے اس شراکت داری کی حدود بھی نمایاں ہوتی ہیں۔
شی جن پنگ ان حدود سے بخوبی واقف ہیں۔ اسی لیے وہ پوتن کے ساتھ مکالمہ تو کرتے ہیں لیکن ان کے سامنے جھکتے نہیں۔ وہ ٹرمپ سے بات چیت بھی کرتے ہیں، لیکن ان پر اعتماد نہیں کرتے۔ وہ بین الاقوامی نظام میں اقوام متحدہ کے مرکزی کردار کی وکالت کرتے ہیں، مگر ساتھ ہی تجارت، بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی اور سفارت کاری کے ذریعے چین کے اثر و رسوخ کو بھی مسلسل وسعت دیتے رہتے ہیں۔ حکمرانی کی مہارت اسی کا نام ہے۔
اس کے برعکس، ٹرمپ کے لیے خارجہ پالیسی ایک تماشے کی مانند ہے۔ ان کے دوروں سے سرخیاں بنتی ہیں، مصافحے ہوتے ہیں، اعلانات بھی سامنے آتے ہیں، لیکن کوئی پائیدار نظام تشکیل نہیں پاتا۔ شی جن پنگ کے سربراہ اجلاس مختلف انداز سے ترتیب دیے جاتے ہیں۔ ان کا مقصد ہر گفتگو کے مرکز میں چین کو رکھنا ہوتا ہے۔ ٹرمپ کسی معاہدے کی تلاش میں بیجنگ آتے ہیں، پوتن یقین دہانیوں کے لیے آتے ہیں، جبکہ دوسرے ممالک رسائی حاصل کرنے کی کوشش میں پہنچتے ہیں۔ شی سب کا استقبال کرتے ہیں اور جو منظر ابھرتا ہے، وہ بالکل واضح ہوتا ہے: دنیا اب واشنگٹن کے سامنے سر جھکانے کے لیے تیار نہیں۔
کثیر قطبی دنیا کا مطالبہ محض ایک نعرہ نہیں ہے۔ چین کے لیے کثیر قطبیت امریکی بالادستی کو کمزور کرنے کا ذریعہ ہے اور اسے براہِ راست تصادم کے بغیر اپنے اثر و رسوخ میں توسیع کا موقع فراہم کرتی ہے۔ روس کے لیے یہ تنہائی سے بچاؤ کی ضمانت ہے۔ ’گلوبل ساؤتھ‘ کے بہت سے ممالک کے لیے اس میں سودے بازی اور بہتر مواقع موجود ہیں لیکن ٹرمپ کے امریکہ کے لیے یہ ایک تلخ حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ محض فوجی طاقت خود بخود سیاسی برتری یا بین الاقوامی جواز فراہم نہیں کرتی۔
درحقیقت ’کثیر قطبیت‘ کا تصور اثر و رسوخ کے باہمی مسابقتی دائروں کی طرف ایک قدم ہے۔ بڑی طاقتیں خودمختاری کا کتنا ہی دفاع کیوں نہ کریں، جب انہیں مناسب لگتا ہے تو وہ خود ہی اس اصول کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔ روس نے یوکرین میں یہی کیا، جبکہ چین نے بھی اپنے پڑوس میں نسبتاً محتاط انداز میں اپنے دعووں کو آگے بڑھایا ہے۔
اسی لیے شی-پوتن سربراہ اجلاس کو ایک سفارتی جوابی حملے کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس میں ٹرمپ کے لیے واضح پیغام تھا کہ چین امریکی دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ اس اجلاس نے دنیا کو یہ بھی دکھایا کہ بیجنگ کے پاس نہ صرف شراکت دار موجود ہیں بلکہ ایسے پلیٹ فارم اور عالمی نظام کے بارے میں ایک متبادل تصور بھی موجود ہے۔
شی جن پنگ امریکہ کو نہایت احتیاط کے ساتھ، مگر پوری قوت سے چیلنج کرتے نظر آتے ہیں۔ احتیاط اس لیے کہ چین کو اب بھی استحکام کی ضرورت ہے، اور پوری قوت اس لیے کہ ان کا خیال ہے کہ تاریخ کا رخ چین کی جانب مڑ رہا ہے۔ ٹرمپ کی پالیسیوں کی غلطیاں اور بالادستی پر مبنی جارحانہ رویہ اس عمل میں کسی معمولی مدد کے مترادف نہیں ہیں۔
(مضمون نگار اشوک سوین، اپسالا یونیورسٹی، سویڈن میں امن اور تنازعات کے مطالعے کے پروفیسر ہیں)
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
