دہلی کی فضائی آلودگی پر اجے ماکن کا حکومت پر حملہ، پھر دہرایا: ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘

کانگریس رہنما اجے ماکن نے دعویٰ کیا کہ دہلی میں فضائی آلودگی گزشتہ سال کے مقابلے میں 15 فیصد بڑھی ہے۔ انہوں نے حکومت سے حقیقی وقت کے اعداد و شمار جاری کرنے اور عالمی معیار اپنانے کا مطالبہ کیا

<div class="paragraphs"><p>اجے ماکن، دہلی کی آلودگی</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

کانگریس کے قومی خزانچی اور راجیہ سبھا کے رکن اجے ماکن نے دہلی کی فضائی آلودگی کے مسئلے پر ایک بار پھر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے کہا کہ دہلی کی ہوا میں بہتری کے جو دعوے کیے جا رہے ہیں وہ دراصل موسمی حالات کا نتیجہ ہیں، نہ کہ حکومتی پالیسیوں کی کامیابی۔

ویڈیو میں اجے ماکن نے کہا کہ اگر موسمی اثرات کو اعداد و شمار سے الگ کر دیا جائے تو فضائی آلودگی کی سطح گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 15 فیصد زیادہ نظر آتی ہے۔ ان کے مطابق ہوا کے معیار میں دکھائی دینے والی بہتری ایک عارضی تاثر ہے جبکہ زمینی سطح پر صورتحال مسلسل خراب ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سلفر ڈائی آکسائیڈ (ایس او ٹو) کے اعداد و شمار سب سے زیادہ تشویش پیدا کرتے ہیں۔ ان کے مطابق سالانہ بنیاد پر مجموعی اضافہ صفر فیصد دکھائی دیتا ہے لیکن ایک نگرانی مرکز پر اس آلودگی میں 247 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اعداد و شمار ڈیزل جنریٹروں اور صنعتی ذرائع سے پیدا ہونے والی آلودگی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

اجے ماکن نے مزید کہا کہ 28 نگرانی مراکز میں سے 17 پر فضائی معیار مسلسل خراب ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق سب سے متاثرہ مقام پر باریک ذرات کی سطح عالمی ادارۂ صحت کی تجویز کردہ حد سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے، جبکہ بڑے ذرات کی مقدار عالمی معیار سے چار گنا تک پہنچ چکی ہے۔


کانگریس رہنما نے ایک تحقیقاتی اشاریے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ آلودگی کی سطح دہلی کے باشندوں کی اوسط متوقع عمر میں تقریباً دس سال تک کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فضائی آلودگی محض ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ عوامی صحت کا سنگین بحران ہے۔

اجے ماکن نے حکومت کے سامنے تین مطالبات بھی رکھے۔ انہوں نے سلفر ڈائی آکسائیڈ کے زیادہ متاثرہ علاقوں میں فوری معائنوں، ہر نگرانی مرکز کے حقیقی وقت کے اعداد و شمار عوام کے سامنے لانے اور عالمی ادارۂ صحت کی مقررہ حدود کو قانونی معیار بنانے کا مطالبہ کیا۔

اجے ماکن نے اپنی پوسٹ اور ویڈیو میں ایک مرتبہ پھر وہی جملہ دہرایا جو وہ گزشتہ کئی مہینوں سے فضائی آلودگی کے معاملے پر استعمال کرتے آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’سانس لینا بنیادی حق ہے، سہولت نہیں‘ اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فضائی آلودگی کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔