
تصویر 'انسٹا گرام'
پاکستان کے بلوچستان میں گزشتہ دنوں جعفر ایکسپریس ٹرین کو باغیوں نے یرغمال بنا لیا تھا۔ اب ایک بار پھر سے بلوچستان کے گوادر ضلع میں باغیوں نے حملہ کیا ہے۔ اس حملے میں کم سے کم 5 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں گاڑیوں کو بھی نقصان پہنچا ہے اور آگ لگا دی گئی ہے۔ ان گاڑیوں میں زیادہ تر وہ ہیں جو بندرگاہ سے نکلے تھے اور ان میں سامان لدا ہوا تھا۔
اس طرح باغیوں نے پاکستان کے ساتھ اب چین کو بھی چیلنج کر دیا ہے کیونکہ اس گوادر پورٹ کی ترقی پاکستان میں چین کی مدد سے ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ یہ چین-پاکستان کوریڈور کا بھی حصہ ہے۔ اس حملے نے ایک بار پھر سے بلوچستان کے حالات دنیا کے سامنے ظاہر کر دیے ہیں۔
بلوچ باغیوں کا یہ حملہ گوادر ضلع کے تاج بن علاقے میں ہوا۔ ہائی وے پولیس کے ایس ایس پی حفیظ بلوچ نے کہا کہ مسلح لوگوں نے ہائی وے کو بلاک کر دیا تھا۔ اس کے بعد ان لوگوں نے کئی گاڑیوں کو آگ کے حوالے کر دیا اور کئی لوگوں کو چن چن کر مار ڈالا۔ اس دوران تین بڑے بڑے ٹرکوں کو بھی آگ کے حوالے کر دیا گیا جن میں گوادر پورٹ سے اترا یوریا افغانستان جانے کے لیے لدا تھا۔
ایس ایس پی نے بتایا کہ مسلح باغیوں نے تربت، تاج بن، پنج گُر اور پسنی میں سڑکوں کو جام کیا تھا۔ اس کے علاوہ بولن، کولپور اور ماستنگ علاقوں میں ہائی بلاک کی خبریں آئی ہیں۔ کسی طرح پولیس انتظامیہ نے ہائی وے کو کھلوایا ہے لیکن تب تک باغیوں نے بڑا نقصان کر دیا تھا۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی پاکستانی سلامتی دستہ حرکت میں آیا اور ہائی وے کو کھلوایا۔ ابھی بھی کئی علاقوں میں راستوں کو کھلوانے کی کوشش جاری ہے۔ اس دوران ان باغیوں نے کراچی جا رہی ایک مسافر بس کو رکوایا اور اس میں سوار لوگوں کو چن چن کر مار ڈالا۔ اب تک ملی اطلاع کے مطابق پنجابی نسل کے لوگوں کو مارا گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔