.jpg?rect=1%2C0%2C3966%2C2231)
ولادیمیر پوتن / تصویر: یو این آئی
روس نے ہوا بازی ایندھن کی برآمد پر پوری طرح روک لگا دی ہے۔ یہ پابندی 30 نومبر تک نافذ رہے گی۔ روسی حکومت نے ملک کے اندر ایندھن کی سپلائی معمول پر برقرار رکھنے کے لیے یہ بڑا قدم اٹھایا ہے۔ کریملن نے پیر کو اس حکمت عملی کی جانکاری دی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا واحد مقصد مقامی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنا ہے۔
Published: undefined
گزشتہ کچھ عرصہ سے روس میں ڈیزل اور جیٹ فیول کی برآمد پر پابندی کے لیے بات چیت چل رہی تھی۔ اب حکومت نے اس کی منظوری دے دی ہے۔ درحقیقت روس کے توانائی مراکز پر لگاتار ڈرون اور میزائل حملے ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی وجہ سے آئل ریفائنریوں میں کام کاج میں نمایاں کمی آئی ہے۔ پیداوار کی یہ سطح کئی سالوں میں سب سے کم سطح ہے۔
Published: undefined
قابل ذکر ہے کہ روس میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو گزشتہ چند مہینوں میں بھاری نقصان پہنچا ہے۔ تیل صاف کرنے والی ریفائنریوں اور پائپ لائن نیٹ ورک کو بار بار نشانہ بنایا گیا ہے۔ ان فضائی حملوں کی وجہ سے روس کی تیل صاف کرنے کی صلاحیت کم ہو گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں ملک کے اندر ایندھن کی موسمی مانگ میں اضافہ ہونے والا ہے۔ اس کے پیش نظر حکومت کی اولین ترجیح مقامی مارکیٹ کو محفوظ بنانا ہے۔
Published: undefined
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ روس عالمی سطح پر ریفائنڈ پیٹرولیم کا بہت بڑا برآمد کنندہ ہے۔ یہ ہر سال بڑی مقدار میں ڈیزل اور جیٹ فیول دوسرے ممالک کو فروخت کرتا ہے۔ تاہم حکومت نے واضح کیا ہے کہ اس نئی پابندی سے موجودہ معاہدوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ 2 ممالک کی حکومتوں کے درمیان جو معاہدے ہوئے ہیں، ان کے تحت ایندھن کی سپلائی جاری رہے گی۔ اس سے قبل روس اپنے آٹو موبائل ایندھن کی برآمدات پر بھی ایسی ہی پابندیاں عائد کر چکا ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined