بچوں میں صحت مند غذائی عادات کے فروغ کے لیے نئی پالیسی سفارشات جاری
آئی سی ایم آر-این آئی این کی قیادت میں ’لیٹس فکس آور فوڈ‘ کنسورثیم نے بچوں اور نوعمروں میں صحت مند غذائی عادات کے فروغ کے لیے 10 اہم پالیسی سفارشات جاری کیں

نئی دہلی: انڈین کونسل آف میڈیکل ریسرچ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف نیوٹریشن (آئی سی ایم آر۔این آئی این) کی قیادت میں قائم ’لیٹس فکس آور فوڈ‘ (ایل ایف او ایف) کنسورثیم نے بھارت میں بچوں اور نوعمروں کے لیے صحت مند غذائی ماحول کی تشکیل اور متوازن خوراک کو فروغ دینے کے مقصد سے دس اہم پالیسی سفارشات جاری کی ہیں۔ ان سفارشات میں صحت مند غذائی عادات کو فروغ دینے اور غیر صحت بخش خوراک کے بڑھتے ہوئے رجحان پر قابو پانے کے لیے ایک جامع روڈ میپ پیش کیا گیا ہے۔
یہ پالیسی دستاویز نئی دہلی کے انڈیا ہیبی ٹیٹ سینٹر میں منعقدہ ایک مشاورتی ورکشاپ کے دوران نیتی آیوگ کے رکن (صحت) ڈاکٹر ایم سری نواس نے جاری کی۔ تقریب میں آئی سی ایم آر۔این آئی این کی ڈائریکٹر ڈاکٹر بھارتی کلکرنی، پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا کے بانی صدر پروفیسر ڈاکٹر کے سری ناتھ ریڈی، وزارتِ صحت، فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز اتھارٹی آف انڈیا (ایف ایس ایس اے آئی)، یونیسیف انڈیا، ریزولو ٹو سیو لائیوز (آر ٹی ایس ایل) اور دیگر قومی و بین الاقوامی اداروں کے نمائندوں، ماہرینِ صحت، محققین اور نوجوانوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر جاری کی گئی رپورٹ تقریباً تین برس کی تحقیق، مختلف ماہرین کے مشوروں اور پالیسی مباحث کا حاصل ہے۔ رپورٹ میں اسکولوں کے غذائی ماحول کو بہتر بنانے، غذائی آگاہی میں اضافہ، پیک شدہ غذاؤں پر غذائیت سے متعلق واضح لیبلنگ، بچوں کو غیر صحت بخش غذاؤں کے اشتہارات سے محفوظ رکھنے، زیادہ چکنائی، نمک اور شکر والی غذاؤں پر مالیاتی اقدامات، نمک کے استعمال میں کمی، کم سوڈیم والے نمک کے متبادل، صحت مند غذائی رویوں کی ترویج اور نوجوانوں کی شمولیت جیسے موضوعات پر قابلِ عمل سفارشات پیش کی گئی ہیں۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر ایم سری نواس نے کہا کہ بچوں اور نوعمروں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے اور غذا سے وابستہ غیر متعدی بیماریوں پر قابو پانے کے لیے سائنسی شواہد پر مبنی اور مختلف شعبوں کے اشتراک سے تیار کی گئی پالیسیاں وقت کی اہم ضرورت ہیں۔ ان کے مطابق "لیٹس فکس آور فوڈ" جیسی مشترکہ کاوشیں ملک میں صحت مند غذائی ماحول قائم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔
آئی سی ایم آر۔این آئی این کی ڈائریکٹر ڈاکٹر بھارتی کلکرنی نے کہا کہ ادارہ اعلیٰ معیار کی تحقیق کو عوامی صحت کی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاری کی گئی سفارشات محققین، پالیسی سازوں، ترقیاتی شراکت داروں اور نوجوانوں کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہیں، جن کا مقصد آئندہ نسلوں کے لیے بہتر غذائی ماحول فراہم کرنا ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر کے سری ناتھ ریڈی نے غیر صحت بخش غذاؤں کے تجارتی، سماجی اور ماحولیاتی عوامل سے نمٹنے کے لیے جامع پالیسی اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بچوں اور نوعمروں کو موٹاپے کو فروغ دینے والے غذائی ماحول سے محفوظ رکھنا ناگزیر ہے۔ ورکشاپ کے دوران لیٹس فکس آور فوڈ کنسورثیم کی ویب سائٹ، اسکولوں کے لیے نیوٹریشن انوائرمنٹ اسیسمنٹ ٹول کٹ (نیٹ-ایس)، اس کی رپورٹ، غذائی لیبل کو سمجھنے سے متعلق ای لرننگ ماڈیول، اور چکنائی، شکر اور نمک کے بارے میں آئی سی ایم آر۔این آئی این کے تعلیمی مواد کا بھی اجرا کیا گیا۔
یونیسیف انڈیا کی چیف آف نیوٹریشن میری کلاڈ ڈیزیلیٹس نے کہا کہ غذائی قلت اب صرف کم غذائیت تک محدود نہیں رہی بلکہ غیر صحت بخش غذا کے باعث بڑھتا ہوا موٹاپا بھی ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر بچے کو ایسے غذائی ماحول کا حق حاصل ہے جو اس کی صحت مند نشوونما، بہتر تعلیم اور مکمل صلاحیتوں کے فروغ میں معاون ہو۔
ریزولو ٹو سیو لائیوز (آر ٹی ایس ایل) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر سید عمران فاروق نے نمک، چکنائی اور شکر کے حد سے زیادہ استعمال میں کمی لانے اور صحت مند غذائی پالیسیاں اختیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسی پالیسیاں دل کی بیماریوں سمیت دیگر غیر متعدی امراض کے بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔
ورکشاپ میں کنسورشیم کے مختلف اداروں نے اسکولوں کے غذائی ماحول، غیر صحت بخش غذاؤں کی تشہیر، غذائی تعلیم، غذائی رویوں، مالیاتی پالیسی کے متبادل اور مختلف ریاستوں میں غذائی ماحول سے متعلق تازہ تحقیقی نتائج بھی پیش کیے۔ اجلاس کا اختتام اس عزم کے ساتھ ہوا کہ ان سائنسی شواہد کو عملی پالیسی اقدامات میں تبدیل کرکے بچوں اور نوعمروں کے لیے صحت مند غذائی ماحول کو یقینی بنایا جائے گا۔
