نیٹ پیپر لیک: اپوزیشن رہنماؤں نے آئین ہند کی کاپیاں تھام کر وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ دہرایا، متوفی طلبہ کو خراج عقیدت
انڈیا اتحاد کے 120 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے گاندھی اسمرتی پہنچ کر نیٹ پیپر لیک معاملے میں متوفی طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا اور وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا

نئی دہلی: نیٹ پیپر لیک اور طلبہ کے جاری احتجاج کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں میں مزید شدت لاتے ہوئے جمعرات کو گاندھی اسمرتی میں علامتی احتجاج کیا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں انڈیا اتحاد کے 120 سے زائد ارکان پارلیمنٹ نے آئین ہند کی کاپیاں ہاتھوں میں تھام کر نہ صرف متوفی طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا بلکہ مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے اور طلبہ سے معافی کا مطالبہ بھی دہرایا۔
جنتر منتر پر طلبہ کے جاری احتجاج اور ان کے خلاف پولیس کارروائی کے پس منظر میں اپوزیشن جماعتوں کے رہنما شام کے وقت راہل گاندھی کی 5، سنہری باغ روڈ واقع رہائش گاہ پر جمع ہوئے۔ اس موقع پر کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے، پرینکا گاندھی واڈرا، جے رام رمیش، کے سی وینوگوپال، پی چدمبرم سمیت متعدد سینئر کانگریسی رہنماؤں کے علاوہ ترنمول کانگریس، آر جے ڈی، این سی پی (شرد پوار)، شیو سینا (ادھو ٹھاکرے گروپ)، سی پی آئی، سی پی ایم اور دیگر جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ بھی موجود تھے۔
اجلاس کے بعد اپوزیشن رہنما دو بسوں میں سوار ہو کر گاندھی اسمرتی کے لیے روانہ ہوئے، تاہم دہلی پولیس نے راستے میں بیریکیڈنگ کرتے ہوئے ان کے قافلے کو روک دیا۔ پولیس کی جانب سے بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہتا (بی این ایس ایس) کی دفعہ 163 کے نفاذ کا حوالہ دیا گیا، جس کے باعث کچھ وقت کے لیے تعطل کی صورتحال پیدا ہوئی۔ بعد ازاں پولیس نے اپوزیشن رہنماؤں کو گاندھی اسمرتی جانے کی اجازت دے دی۔
گاندھی اسمرتی پہنچنے کے بعد اپوزیشن رہنماؤں نے ان طلبہ کو خراج عقیدت پیش کیا جن کے بارے میں اپوزیشن جماعتوں کا کہنا ہے کہ امتحانات میں بے ضابطگیوں اور نیٹ پیپر لیک جیسے معاملات کے بعد انہوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے ہاتھ جوڑ کر متوفی طلبہ کو یاد کیا اور بعد ازاں قومی ترانہ بھی گایا۔
اس موقع پر راہل گاندھی اپنے ہاتھ میں آئین ہند کی ایک مختصر کاپی تھامے ہوئے نظر آئے، جبکہ متعدد ارکان پارلیمنٹ نے بھی آئین کی کاپیاں ساتھ رکھی تھیں۔ ترنمول کانگریس کی مہوا موئترا اور جھارکھنڈ مکتی مورچہ کی مہوا مانجھی قومی پرچم تھامے ہوئے تھیں، جبکہ کئی اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے موبائل فون کی فلیش لائٹس روشن کر کے طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
گاندھی اسمرتی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے راہل گاندھی نے کہا کہ ’’ہمارے رہنما مہاتما گاندھی کو اسی مقام پر قتل کیا گیا تھا۔ آج مودی حکومت ہندوستان میں جمہوریت کا قتل کر رہی ہے۔ حکومت طلبہ پر ظلم کر رہی ہے اور پُرامن احتجاج کرنے والے نوجوانوں کو پیٹ رہی ہے۔ اپوزیشن اسے قبول نہیں کرے گی۔ ہم طلبہ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کو مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو فوری طور پر برطرف کرنا چاہیے اور ملک کے طلبہ سے معافی مانگنی چاہیے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر بھی ایک پوسٹ میں کہا کہ انڈیا اتحاد کے ارکان پارلیمنٹ ان طلبہ کو یاد کرنے گاندھی اسمرتی پہنچے ہیں جنہیں ملک نے کھو دیا اور ان زخمی طلبہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر رہے ہیں جو انصاف اور جواب دہی کا مطالبہ کرنے کی پاداش میں تشدد کا شکار ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے طلبہ اکیلے نہیں ہیں اور پورا اپوزیشن اتحاد ان کے مطالبات کے ساتھ کھڑا ہے۔
کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہی وہ ملک ہے جہاں مہاتما گاندھی نے کسانوں اور غریبوں کے ساتھ مل کر عدم تشدد کی بنیاد پر تحریکیں چلائیں، لیکن آج اپنے حقوق اور انصاف کا مطالبہ کرنے والے طلبہ کو لاٹھیوں سے جواب دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو نوجوانوں کے سوالات کا جواب دینا چاہیے، نہ کہ انہیں دبانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
کانگریس کے رکن پارلیمنٹ کے سی وینوگوپال نے کہا کہ گاندھی اسمرتی میں اپوزیشن رہنماؤں کی موجودگی اس عزم کا اظہار ہے کہ وہ ملک کے طلبہ کے جائز مطالبات اور ان کے بہتر مستقبل کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔
واضح رہے کہ نئی دہلی کے جنتر منتر پر طلبہ کا احتجاج مسلسل جاری ہے۔ طلبہ امتحانات میں بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی، وزیر تعلیم کے استعفے، طلبہ پر پولیس کارروائی کے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور تعلیمی نظام میں اصلاحات سمیت مختلف مطالبات کے حق میں دھرنا دیے ہوئے ہیں، جس کی حمایت میں اپوزیشن جماعتیں اب کھل کر میدان میں آ چکی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
