سعودی جہازوں پر دوبارہ حملے ہوئے تو ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا، ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی دھمکی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی تیل بردار جہازوں پر حملے کے بعد خبردار کیا ہے کہ آئندہ ایسے حملوں کی صورت میں ایران کو بھی ذمہ دار مانتے ہوئے سخت فوجی کارروائی کی جائے گی

<div class="paragraphs"><p>امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>
i

نئی دہلی: امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے بحیرہ احمر میں سعودی عرب کے تیل بردار جہازوں پر حوثی باغیوں کے حملوں کے بعد سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آئندہ ایسے حملے دہرائے گئے تو امریکہ اس کے لیے نہ صرف حوثی باغیوں بلکہ ایران کو بھی براہ راست ذمہ دار قرار دے گا اور دونوں کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔

ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر جاری بیان میں کہا کہ حوثی باغی ایران کے حمایت یافتہ ایک پراکسی گروپ ہیں اور ان کی کارروائیوں کو ایران کی حمایت کے بغیر الگ کر کے نہیں دیکھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ سمندری تجارت اور بین الاقوامی بحری راستوں کی حفاظت کے معاملے میں کسی بھی قسم کی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔

ٹرمپ نے یاد دلایا کہ تقریباً ایک سال قبل امریکہ نے بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کے معاملے پر حوثی باغیوں کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی کی تھی۔ ان کے مطابق اس کے بعد اور ایران کے ساتھ کشیدگی کے دوران حوثیوں نے نسبتاً ذمہ دارانہ رویہ اختیار کیا تھا، تاہم اب انہوں نے ایک مرتبہ پھر جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

امریکی صدر نے کہا کہ بدھ کی شب حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے دو جہازوں پر فائرنگ کی، جس کے بعد امریکہ نے صورتحال کا سنجیدگی سے جائزہ لیا ہے۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر آئندہ ایسے حملے ہوتے ہیں تو امریکہ اسے ایران کی کارروائی تصور کرے گا اور اس کے نتائج ایران کو بھگتنا ہوں گے۔


ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا، "یہ میری واضح وارننگ ہے۔ اگر حوثی باغی دوبارہ سمندری جہازوں پر حملہ کرتے ہیں تو امریکہ ایران کو اس کا ذمہ دار مانے گا کیونکہ حوثی ایران کے حمایت یافتہ پراکسی گروپ ہیں۔ ایسی صورت میں ایران کے خلاف سخت فوجی کارروائی کی جائے گی اور حوثی باغیوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔"

دوسری جانب یمن کے حوثی گروپ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے بحیرہ احمر میں دو سعودی تیل بردار جہازوں کو ایک فوجی کارروائی کے دوران نشانہ بنایا ہے۔ حوثیوں کے مطابق یہ جہاز ان سمندری پابندیوں کی خلاف ورزی کر رہے تھے جو انہوں نے حال ہی میں عائد کی تھیں۔

حوثی گروپ کے ترجمان یحییٰ سریع نے گروپ کے زیر انتظام ’المسیرہ‘ ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں کہا کہ ’اینسیلیا‘ اور ’لیلیٰ‘ نامی تیل بردار جہازوں کو بیلسٹک اور کروز میزائلوں کے ساتھ ساتھ ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ حملوں کے نتیجے میں دونوں جہازوں میں آگ لگ گئی اور کارروائی اپنے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔

یحییٰ سریع کے مطابق ان جہازوں نے سعودی بندرگاہوں کی جانب آنے والے جہازوں پر حوثی افواج کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کو نظر انداز کیا تھا، جس کے باعث انہیں نشانہ بنایا گیا۔ ٹرمپ کے تازہ بیان نے بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران، امریکہ اور حوثی باغیوں کے درمیان ممکنہ تصادم کے خدشات کو مزید بڑھا دیا ہے، جس کے عالمی سمندری تجارت اور مشرق وسطیٰ کی سلامتی پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔